امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ”ہم نے روس کو جی ۸؍ سے نکال کر غلطی کی تھی”، روسی صدر نے دعوت نامہ قبول کیا، مفاہمت کا امکان
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) — روسی صدر ولادیمیر پوتن دسمبر میں امریکہ کے شہر میامی میں منعقد ہونے والے جی ۲۰؍ سربراہی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پوتن کی موجودگی ”انتہائی مفید” ہو گی اور روس کو جی ۸؍ سے نکالنا ایک غلطی تھی۔
ایک باخبر امریکی عہدیدار نے جمعہ کو بتایا کہ امریکہ نے روس کو جی ۲۰؍ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس کی میزبانی واشنگٹن اس سال میامی میں کر رہا ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ ماسکو نے یہ دعوت قبول کر لی ہے۔
پوتن کی غیر حاضری کا پس منظر
روسی صدر پوتن نے ۲۰۱۹ء سے کورونا وبا کی وجہ سے اور پھر ۲۰۲۲ء میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد جی ۲۰؍ اجلاسوں میں شرکت نہیں کی۔ یوکرین حملے نے ماسکو اور مغربی ممالک کے درمیان سرد جنگ کے عروج کے بعد سے سب سے بڑا سفارتی بحران پیدا کر دیا تھا۔
کریملن کا محتاط رویہ
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا کہ صدر پوتن جی ۲۰؍ کے رکن کی حیثیت سے میامی جا سکتے ہیں، یا شاید نہ جائیں، یا ہو سکتا ہے کوئی اور روسی نمائندہ شرکت کرے۔ واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو اطلاع دی تھی کہ ٹرمپ پوتن کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم بعد میں انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ دعوت کے معاملے سے لاعلم ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ رسمی دعوت نامے ابھی جاری نہیں کیے گئے، تاہم روس جی ۲۰؍ کا رکن ہے اور اسے وزارتی اجلاسوں اور قائدین کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا جائے گا

