واشنگٹن / تل ابیب —
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور یہ حملے آئندہ ہفتے کے آغاز میں ہی شروع ہو سکتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے دو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرِ غور آپشنز میں ایرانی فوجی اور بنیادی ڈھانچے پر وسیع بمباری، خلیجِ فارس میں واقع تیل برآمدی مرکز خارگ آئی لینڈ پر قبضہ، اور ایرانی سرزمین پر خصوصی کمانڈو آپریشن شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال جون میں مشترکہ کارروائی کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد تقریباً 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم ملبے تلے دب جانے کا خدشہ ہے — یہ مقدار تقریباً دس جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے۔ امریکی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس یورینیم کو حاصل کرنے کے لیے کمانڈو آپریشن انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہوگا، جس میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی اور ایرانی افواج سے براہِ راست جھڑپوں کا امکان ہے۔

