برلن
ماہرین اور توانائی تجزیہ کاروں کے مطابق جرمنی اپنے ۲۰۳۰ء کے موسمیاتی اہداف پورے کرنے میں ناکام رہنے کی راہ پر ہے، جس سے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی پیرس معاہدے سے وابستگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
جرمنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ۲۰۳۰ء تک ۱۹۹۰ء کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ۶۵ فیصد کمی لائے گا، تاہم موجودہ پیش رفت اس ہدف سے کافی پیچھے ہے۔
اس صورتحال کے پیچھے کئی اہم عوامل ہیں۔ ۲۰۲۳ء میں جوہری توانائی کا مکمل خاتمہ کیا گیا، جس کے بعد روس یوکرین جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کے دوران کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر جزوی انحصار بڑھانا پڑا۔ قابل تجدید توانائی میں توسیع ہوئی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ رفتار جوہری توانائی کے خلاء کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
جرمن حکومت کے اپنے موسمیاتی مشاورتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور عمارتوں کے شعبے ہدف سے بہت پیچھے ہیں۔ گھروں کی حرارت کے لیے گیس پر انحصار برقرار ہے، اور الیکٹرک گاڑیوں کا چلن ۲۰۲۳ء میں سبسڈی ختم ہونے کے بعد سست پڑ گیا ہے۔
چانسلر فریڈرک میرز کی نئی حکومت نے معاشی مسابقت اور صنعتی بحالی کو ترجیح دینے کے اشارے دیے ہیں، جسے ماحولیاتی تنظیمیں موسمیاتی عزائم کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔
جرمنی کی ناکامی نہ صرف اس کے اپنے لیے بلکہ پورے یورپی یونیت کی موسمیاتی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگی، کیونکہ برلن خود کو سبز توانائی کی منتقلی میں رہنما ملک کے طور پر پیش کرتا آیا ہے۔

