اقلیت مخالف سرگرمیوں پر آر ایس ایس کے خلاف عالمی دباؤ میں اضافہ

IMG 20260518 WA1931


نئی دہلی / واشنگٹن
بھارت کی ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) عالمی سطح پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اور انتہا پسند نظریات کے فروغ کے الزامات کے بعد متعدد ممالک میں تنظیم پر پابندی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کرنے، اس کے اثاثے منجمد کرنے اور تنظیم سے وابستہ افراد کے امریکا میں داخلے پر پابندی کی باضابطہ سفارش کی ہے۔ کمیشن نے آر ایس ایس کو بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت، تشدد اور عدم برداشت کے فروغ سے جوڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے ہندوتوا نظریے کے تحت مذہبی انتہا پسندی کو منظم انداز میں فروغ دیا، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں اس کا اثر و رسوخ مزید بڑھا۔ رام مندر کی تعمیر اور کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ آر ایس ایس ایجنڈے کی بڑی کامیابیوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
۱۹۲۵ء میں قائم ہونے والی آر ایس ایس کا نام تاریخی تناظر میں مہاتما گاندھی کے قتل کے سلسلے میں بھی سامنے آ چکا ہے — ایک الزام جسے تنظیم ہمیشہ مسترد کرتی آئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی دباؤ بڑھنے کے بعد آر ایس ایس نے امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں لابنگ مہم تیز کر دی ہے، اور تنظیم کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے یورپ اور ایشیا میں مزید سفارتی رابطوں کا اعلان کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نریندر مودی کی آر ایس ایس سے نظریاتی وابستگی کے باعث بھارتی حکومت کو مذہبی شدت پسندی کے الزامات کا سامنا ہے، اور اقلیتوں کے خلاف واقعات یورپ اور بھارت کے تعلقات میں بھی رکاوٹ بنتے جا رہے ہیں۔
آر ایس ایس نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک ثقافتی و سماجی خدمت کی تنظیم قرار دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ