اسلام آباد پاکستان بیورورپورٹ محمد سلیم سے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے قتل کے مقدمے میں ملزم عمر حیات کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزائے موت کے ساتھ 10 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ فیصلے کے وقت ثناء یوسف کے والدین عدالت میں موجود تھے۔
ثناء یوسف کو 2 جون 2025 کو اپنے گھر میں قتل کیا گیا۔ اگلے ہی دن پولیس نے ملزم عمر حیات کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا۔ 13 جون کو شناخت پریڈ کے دوران مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی نے بطور چشم دید گواہ ملزم کی شناخت کی۔
مقدمے میں 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور 27 گواہان عدالت میں پیش ہوئے۔ موبائل فارنزک میں ثناء یوسف کے فون سے "کاکا” کے نام سے محفوظ نمبر ملزم کا نکلا، جس پر جج نے ملزم سے براہ راست سوال کیا لیکن اس نے وکیل کے بغیر جواب دینے سے انکار کر دیا۔
ملزم کے وکیل نے استدعا کی کہ این جی اوز اور "لبرل سوسائٹی” کے دباؤ میں آ کر فیصلہ نہ کیا جائے، جس پر جج افضل مجوکہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "عدالت کو گمراہ نہ کریں۔”
سرکاری اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین کیانی نے ملزم کو دوہری سزائے موت دینے کی استدعا کی تھی۔ دفاعی وکیل کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دو درخواستیں ابھی زیرالتوا ہیں۔

