"UAE پچھلے 3 سال سے اوپیک چھوڑنے پر غور کر رہا تھا — قرقاش کا بڑا انکشاف”

IMG 20260522 WA1749

ابوظہبی / دبئی — متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام جو پہلے ان کی دوسری یا تیسری بڑی تشویش تھی، اب پہلی اور سب سے بڑی تشویش بن چکا ہے۔
قرقاش نے کہا کہ ایران اپنے پاس موجود ہر ہتھیار استعمال کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جو خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک اور جنگی مرحلہ صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔
امارات کے صدارتی مشیر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ پر کسی بھی تبدیلی کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ کی توانائی اور تجارت بھی براہِ راست متاثر ہوگی۔ انہوں نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو اپنے توانائی اور تجارتی مفادات کے تناظر میں دیکھیں۔
قرقاش نے سفارتی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاہم ایسا کوئی بھی سیاسی حل قابلِ قبول نہیں جو مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرے۔
️ اوپیک سے علیحدگی کا انکشاف
امارات کے صدارتی مشیر نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات پچھلے 3 سال سے اوپیک چھوڑنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا تھا۔ یہ بیان عالمی تیل منڈیوں میں ہلچل پیدا کرسکتا ہے۔
 امریکا کا بڑھتا کردار
قرقاش نے واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات اب ہر خلیجی ملک کے قومی دفاعی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکے ہیں اور واشنگٹن خلیجی حکومتوں کے اسٹریٹجک اندازوں میں پہلے سے کہیں زیادہ مرکزی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

متعلقہ پوسٹ