یروشلم،— اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بیروت پر حملے روکنے کے فیصلے کے بعد اپنی کابینہ کے اندر شدید تنقید کا شکار ہو گئے ہیں۔ انتہا پسند اتحادی وزرا نے نہ صرف ان پر تنقید کی بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اثر و رسوخ کو بھی چیلنج کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے حملے روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں بیروت کے جنوبی مضافات پر حملے بھی شامل ہیں۔ تاہم قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی اور حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بن گویر نے نیتن یاہو سے کہا:
"جناب وزیر اعظم، آپ نے کہا تھا کہ ایک مضبوط وزیر اعظم جب ممکن ہو تو امریکہ کے صدر سے ‘ہاں’ کہتا ہے اور جب ضروری ہو تو ‘نہیں’ کہتا ہے۔ اب ہمارے دوست صدر ٹرمپ سے ‘نہیں’ کہنے کا وقت آ گیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا: "اب وہ وقت ہے کہ حزب اللہ پر حملے کیے جائیں، ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ کھولے جائیں اور شمالی علاقوں میں سلامتی بحال کی جائے۔”
بن گویر کے اس بیان نے نیتن یاہو کی حکومت میں دراڑیں نمایاں کر دی ہیں۔ دیگر وزرا بھی حکومت پر امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کا الزام لگا رہے ہیں۔
یہ واقعہ 2026 کی لبنان جنگ کے تناظر میں سامنے آیا ہے جہاں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں، جبکہ امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے معاہدے بار بار ٹوٹ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بن گویر کا یہ کھلا چیلنج نیتن یاہو کے لیے بین الاقوامی سفارتکاری اور گھریلو انتہا پسند اتحادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا مشکل امتحان ہے۔

