اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو غطریس نے غزہ کی پٹی میں جانے والی اہم کراسنگ بند کرنے اور انسانی امداد معطل کرنے کے اسرائیلی فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیل کی طرف میزائل حملوں کے بعد اسرائیلی حکام نے کرم شالوم کراسنگ بند کر دی، جو گزشتہ دو ہفتوں سے غزہ میں مال برداری کے لیے واحد فعال کراسنگ تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کوئی بھی کراسنگ پوائنٹ کھلا نہیں ہے اور باہر سے کچھ بھی غزہ میں داخل نہیں ہو رہا۔
غطریس نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انسانی امداد کی فوری اور بلاروک ٹوک فراہمی یقینی بنائیں۔ فرحان حق نے کہا کہ اقوام متحدہ کراسنگ بند کرنے کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور معمول کی نقل و حرکت کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
دوسری جانب مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک خاندان کی گاڑی نشانہ بنی، جس پر اقوام متحدہ نے اسرائیل سے سات ماہ کے بچے کی ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے روزانہ کے حملوں میں ۹۵۱ فلسطینی شہید اور ۲۹۸۴ زخمی ہو چکے ہیں۔

