اسرائیلی روزنامہ ’یدیعوت احرونوت‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے بائیکاٹ، سفری پابندیوں اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک نے اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔
جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ، جس کا عنوان ’’اسرائیل دنیا کا سب سے زیادہ بائیکاٹ کیا جانے والا ملک کیسے بن گیا‘‘ تھا، میں کہا گیا کہ غزہ جنگ اور ویسٹ بینک میں اسرائیلی پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف پابندیوں اور بی ڈی ایس مہمات کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق اسرائیل کو ’’بین الاقوامی پابندیوں کے ایک سونامی‘‘ کا سامنا ہے، جس میں مختلف ممالک اور طویل عرصے سے سرگرم بی ڈی ایس تنظیموں کی جانب سے اسرائیلی حکام، آبادکاروں اور اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فرانس نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی، جبکہ اس سے قبل قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر پر بھی اسی نوعیت کی پابندی لگائی جا چکی تھی۔ اخبار کے مطابق فرانس کا یہ اقدام دونوں وزراء کی جانب سے ویسٹ بینک کے الحاق، نئی یہودی بستیوں کے قیام اور فلسطینی اتھارٹی کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کی فعال حمایت کے ردعمل میں کیا گیا۔ اقوام متحدہ ویسٹ بینک بشمول مشرقی یروشلم کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ قرار دیتی ہے اور اس کے الحاق کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کے خاتمے کے مترادف سمجھتی ہے۔

