برطانیہ کے شہر مانچسٹر کی کوآپ اکیڈمی میں چاقو حملے کے دوران طلبہ کی جان بچانے کی کوشش میں زخمی ہونے والے ۲۷؍ سالہ استاد میثم عبداللہ کو عوام، والدین اور ساتھی اساتذہ کی جانب سے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
منگل (۹؍ جون) کو پیش آنے والے اس واقعے میں دو ۱۴؍ سالہ طلبہ اور ایک استاد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں طبی امداد کے بعد رخصت کر دیا گیا۔ میثم عبداللہ، جو اب گھر پر روبہ صحت ہیں، نے کہا کہ وہ اب بھی واقعے کو سمجھنے اور اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے طلبہ کو محفوظ رکھنے کے لیے مداخلت کی جس سے انہیں گردن اور ہاتھوں پر زخم آئے۔
ان کی اہلیہ صائمہ عبداللہ نے کہا: ’’میرے شوہر نے تدریس کا پیشہ نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے اختیار کیا تھا اور وہ ان بچوں کی حفاظت کے لیے حقیقی معنوں میں ہیرو ثابت ہوئے۔ ہماری دعائیں زخمی طلبہ اور اس واقعے کے گواہ بننے والے تمام طلبہ و عملے کے ساتھ ہیں۔‘‘
پولیس کے مطابق حملہ مانچسٹر کے علاقے بلیکلی میں اسکول کے احاطے میں پیش آیا، جس کے بعد اسکول کو لاک کر دیا گیا۔ ایک ۱۴؍ سالہ طالبہ پر تین افراد کے قتل کی کوشش کے تین الزامات اور دھاردار ہتھیار رکھنے کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ملزمہ کی ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیشی متوقع ہے۔ پولیس فی الحال اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار نہیں دے رہی اور تحقیقات جاری ہیں۔

