نئی دہلی / ڈھاکا، 15 جون 2026 — ایک اہم سفارتی واقعے میں بنگلادیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمٰن کے مشیر زاہد الرحمٰن کو دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھارت میں داخل ہونے کی ابتدائی طور پر اجازت نہیں دی گئی۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق مشیر زاہد الرحمٰن سے ایئرپورٹ پر ڈھائی گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کا بھارت آنا بحرِ ہند رِم ایسوسی ایشن (IORA) کے اجلاس میں شرکت کے لیے تھا اور سفارتی سطح پر پیشگی اطلاع اور منظوری حاصل تھی۔
بنگلادیش کی جانب سے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایک سرکاری ذریعے نے اسے “تشویش ناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ضروری منظوریوں کے باوجود داخلے کی اجازت نہ دینا قابلِ افسوس ہے۔
بھارتی حکام کا موقف ہے کہ اعلیٰ سطحی مداخلت کے بعد داخلے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ تاہم بنگلادیشی میڈیا کے مطابق زاہد الرحمٰن نے بھارت میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے کولمبو کے راستے ڈھاکا واپس جانے کا انتخاب کیا۔
یہ واقعہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی اور سرکاری سطح پر سفر کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اب تک بھارت کے وزارتِ خارجہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

