امریکہ ایران مذاکرات: ۶۰ روز میں حتمی معاہدے کا روڈ میپ طے، پاکستان اور قطر کا مشترکہ اعلامیہ

donaldtrump d


جنیوا / اسلام آباد / دوحہ — خصوصی رپورٹ
پاکستان اور قطر نے امریکہ ایران مذاکرات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے ۶۰ روز کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ پر اتفاق کر لیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات کے پہلے روز امریکہ اور ایران کے درمیان حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق طے پانے والے فریم ورک میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں۔ ایران اور امریکہ کے تکنیکی مذاکرات کا آغاز فوری طور پر ہوگا۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں اعلیٰ سطح کی نگران کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پورے مذاکراتی عمل کی نگرانی کرے گی۔ ایٹمی پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور دیگر تنازعات کے حل کے لیے الگ الگ ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے۔ لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے قطر اور پاکستان کی سہولت کاری سے ڈی کنفلیکشن سیل قائم کیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے باقاعدہ رابطہ نظام وضع کیا جائے گا۔
ٹرمپ کی دھمکیاں، مذاکرات میں تناؤ
تاہم یہ مذاکرات مکمل طور پر ہموار نہیں رہے۔ انتہائی نازک مذاکراتی مرحلے میں اس وقت کشیدگی پیدا ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران پر دوبارہ بمباری کر سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول بھی سنبھال سکتا ہے۔
ٹرمپ کی ان دھمکیوں پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اپنے بیانات اور لہجے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ اس تناؤ کے باعث مذاکرات عارضی تعطل کا شکار بھی ہوئے، تاہم بعد ازاں ثالث ممالک کی کوششوں سے مذاکراتی عمل بحال ہو گیا۔
ثالث ممالک پاکستان اور قطر نے تصدیق کی ہے کہ تکنیکی سطح کے مذاکرات اس ہفتے بھی سوئٹزرلینڈ میں جاری رہیں گے۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مذاکرات کا پہلا مرحلہ مجموعی طور پر مثبت رہا اور خطے میں امن و استحکام کی جانب پیش قدمی ہو رہی ہے۔

متعلقہ پوسٹ