بدعنوانی کے مقدمے میں عدالت کی نیتن یاہو کو ریلیف دینے کی کوشش

yahu 1726 d


یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت کے تین ججوں نے استغاثہ کو ایک بار پھر رشوت کا الزام واپس لینے کی سفارش کر دی۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ یہ الزام ثابت کرنا آسان نہیں ہوگا، جبکہ یہی سفارش تین سال قبل بھی کی جا چکی ہے۔
نیتن یاہو کے وکیل امیت حداد نے عدالت کو بتایا کہ اگر رشوت کا الزام مقدمے کا حصہ رہا تو سیکڑوں مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنا ہوں گے، جس سے ۲۰۲۰ء میں شروع ہونے والا مقدمہ ۲۰۲۸ء تک بھی مکمل نہیں ہو سکے گا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کارروائی تیز کرنے کے لیے ہفتے میں پانچ روز سماعت کی تجویز دی، تاہم استغاثہ اور دفاع دونوں نے اعتراض کیا۔ وکیل نے اس تجویز کا موازنہ نازی لیڈر ایڈولف آئخمن کے مقدمے سے کیا۔
استغاثہ کے مطابق نیتن یاہو نے بطور وزیراعظم و وزیر مواصلات، ٹیلی کام کمپنی بیزک کے بڑے حصے دار شاؤل ایلووچ کو کروڑوں شیکل مالیت کے ریگولیٹری فیصلوں سے فائدہ پہنچایا، بدلے میں ایلووچ کی نیوز ویب سائٹ ’والا‘ نے ان کے حق میں مثبت کوریج دی — یہ نام نہاد ’’کیس ۴۰۰۰‘‘ ہے۔ ان پر دو دیگر مقدمات (کیس ۱۰۰۰ اور کیس ۲۰۰۰) میں تحائف لینے اور میڈیا کوریج کے عوض سودے بازی کے الزامات بھی ہیں۔ نیتن یاہو نے عدالت میں موجودگی کے دوران تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا۔

متعلقہ پوسٹ