زمبابوے کے سٹار آل راؤنڈر پاکستانی نژاد سکندر رضا کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کے لیے نہ کھیلنے کا کبھی افسوس نہیں ہوا۔
پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے سکندر رضا نے یہ بات کرک وک نامی یوٹیوب چینل پر ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں کہی ہے۔
سکندر رضا ان دنوں پاکستان میں موجود ہیں جہاں وہ پاکستان سپر لیگ کی ٹیم لاہور قلندرز کا حصہ ہیں۔
وہ زمبابوے کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان ہیں اور آئی سی سی ون ڈے آل راؤنڈرز کی رینکنگ میں تیسرے اور ٹی 20 میں پہلی نمبر پر ہیں۔
سکندر رضا حالیہ سالوں میں اپنی شاندار پرفارمنس کے باعث دنیائے کرکٹ پر چھائے رہے ہیں اور اکثر ان کی پرفارمنس کو دیکھ کر پاکستانیوں کو یہ کہتے دیکھا گیا ہے کہ ’سکندر رضا نے اچھا کیا جو پاکستان سے نہیں کھیلے۔‘
ایسا ہی سوال ان سے اس پوڈ کاسٹ میں بھی ہوا کہ کیا انہیں کبھی اس بات کا افسوس ہوا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے نہیں کھیلے۔
سکندر رضا نے اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ پاکستان کے لیے کبھی کھیلے ہی نہیں تو افسوس کیسا۔
انہوں نے کہا کہ ’لوگ پاکستان اور کرکٹ بورڈ کو برا بھلا کہتے ہیں کہ ٹیلنٹ ضائع کر دیا، سکندر نے اچھا کیا جو ملک چھوڑ دیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سکندر رضا نے کہا کہ ’میں پاکستان میں کرکٹ کھیلا ہی نہیں ہوں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ پی سی بی نے مجھے ضائع کر دیا۔
’پی سی بی مجھے کیسے ضائع کر سکتا ہے جب میں ان کے سسٹم میں تھا ہی نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں بہت چھوٹی عمر میں ہی باہر چلا گیا تھا اور میں کرکٹر بننا بھی نہیں چاہتا تھا۔ میری پہلی ترجیح تعلیم تھی۔
’میرے زمبابوے سے کرکٹ کھیلنے میں پاکستان اور پی سی بی کو برا نہیں کہنا چاہیے۔ بطور کرکٹر میں کبھی بھی آپ کے ساتھ نہیں تھا۔‘
سکندر رضا کہتے ہیں کہ ’جب مجھے سرے سے بنایا ہی زمبابوے نے ہے تو میرے دماغ میں یہ کبھی نہیں آیا کہ اگر پاکستان مجھے بلا لیتا یا میں چلا جاتا تو کیا ہوتا۔
’اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ میں اگر پاکستان میں ہوتا تو کھیل جاتا۔؟‘
اس بارے میں انہوں نے اپنی بات پاکستانی فینز کو مخاطب کر کے یہ کہتے ہوئے ختم کی کہ ’پاکستان میں کھیلنے والے اپنے بچوں، جونیئر اور سینیئرز کے لیے دعا کریں اور ان کو سپورٹ کریں۔‘

