اسرائیلی وزیر بین گویر پر قانونی دباؤ، نیویارک کے اجلاس میں شرکت منسوخ: رپورٹ


اسرائیل کے انتہا پسند قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر پر قانونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث انہوں نے نیویارک میں ہونے والی پولیس سربراہان کی کانفرنس میں شرکت منسوخ کر دی ہے۔
یروشلم پوسٹ کی سنیچر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بین گویر نے اس ہفتے نیویارک میں ہونے والی پولیس سربراہان کانفرنس میں شرکت کا ارادہ ترک کر دیا ہے، جس کی وجہ ان کی جیل پالیسی اور مبینہ جنگی جرائم میں ملوث ہونے سے متعلق قانونی دباؤ بتائی جا رہی ہے۔ تاہم بین گویر کے دفتر نے تاحال دورے کی منسوخی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ رپورٹ اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز کی اُس خبر کے ایک روز بعد سامنے آئی جس میں وزارتی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ یہ فیصلہ بین گویر کے دورے کے خلاف منصوبہ بند مظاہروں اور انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے ان کی تحقیقات و گرفتاری کے بڑھتے مطالبات کے پیشِ نظر کیا گیا۔
بین گویر کو منگل اور بدھ کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے پولیس سربراہان کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
قانونی کارروائی کی تفصیلات
بیلجیم میں قائم ہند رجب فاؤنڈیشن، جو دنیا بھر میں اسرائیلی فوجیوں اور عہدیداروں کے خلاف قانونی مقدمات دائر کرنے کے لیے معروف ہے، نے ہفتے کے آغاز میں امریکی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ بین گویر کو ان کی جیل پالیسیوں کے سلسلے میں حراست میں لے کر مقدمہ چلایا جائے۔
فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اس نے اور نیویارک میں قائم سینٹر فار کنسٹی ٹیوشنل رائٹس نے امریکی محکمہ انصاف میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے، اور نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز سے تحقیقات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ فاؤنڈیشن کا الزام ہے کہ بین گویر نے اپنے اختیارات کو منظم تشدد، قتل، زیادتی اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے استعمال کیا، خصوصاً اسرائیلی جیلوں کے اندر جو ان کی وزارت کے ماتحت آتی ہیں۔
گروپوں کا مؤقف ہے کہ اٹارنی جنرل جیمز کو یہ اختیار حاصل ہے کیونکہ نیویارک کے متعدد باشندے مبینہ طور پر بین گویر کی پالیسیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے نیویارک سے تعلق رکھنے والے 11 مبینہ متاثرین کا حوالہ دیا، جن میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ کے لیے روانہ ہونے والے امدادی بحری جہازوں پر سوار 10 افراد بھی شامل ہیں، جنہیں اسرائیل کی جانب سے حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خط میں ایک فلسطینی نژاد امریکی کا بھی ذکر کیا گیا جسے اسرائیلی جیل میں حراست کے دوران بھوک اور دیگر مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
ہند رجب فاؤنڈیشن نے سنیچر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: "ہند رجب فاؤنڈیشن ان رپورٹس کا خیرمقدم کرتی ہے کہ اسرائیلی وزیر بین گویر نے سینٹر فار کنسٹی ٹیوشنل رائٹس کی قانونی کارروائی کے بعد نیویارک کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔”
پس منظر
خیال رہے کہ یہ ایک ماہ کے دوران بین گویر کا دوسرا امریکی دورہ ہے جو منسوخ ہوا ہے۔ ہاریٹز کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ ایک منصوبہ بند نجی دورہ بھی مبینہ طور پر ویزا سے متعلق مشکلات کے باعث منسوخ کیا تھا، جبکہ اقوامِ متحدہ کانفرنس کے لیے، بطور سرکاری اسرائیلی وفد کے سربراہ، انہیں داخلے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سیاسی و فوجی قیادت طویل عرصے سے استثنیٰ کی توقع کے ساتھ بین الاقوامی سفر کرتی رہی ہے، تاہم حالیہ پیش رفت اس تاثر کو کمزور کرتی دکھائی دیتی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی غزہ پر جنگ، جو 8 اکتوبر 2023ء کو امریکی حمایت سے شروع ہوئی، کے نتیجے میں علاقے کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ