غزہ میں ابو شریعہ خاندان کے ۱۱۲ افراد کی اجتماعی تدفین، ہزاروں افراد کی شرکت

ijtimai 0408 d


غزہ — غزہ شہر میں منگل کو ہزاروں فلسطینیوں نے ابو شریعہ الحسینہ خاندان کے ۱۱۲ افراد کی اجتماعی نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ یہ لاشیں ان گھروں کے ملبے سے نکالی گئیں جو غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی بمباری کے دوران تباہ ہوگئے تھے۔ شہدا میں بچے، خواتین، مرد اور بزرگ شامل تھے۔ میتوں کو فلسطینی پرچموں میں لپیٹ کر محلہ الصبرہ کے تباہ شدہ گھروں کے درمیان رکھا گیا، جس کے بعد جنازہ وسطی غزہ کے شیخ شعبان قبرستان لے جایا گیا۔
خاندان کے ترجمان یوسف ابو شریعہ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک خاندان کے ۳۰۸ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ خاندان کے بزرگ علی ابو شریعہ نے بتایا کہ ۱۱۲ شہدا میں ۴۴ بچے، ۳۷ خواتین، ۲۳ معمر افراد اور ۷ معذور افراد شامل تھے۔ ان کے مطابق پہلا بڑا حملہ ۲۰ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو ہوا جس میں خاندان کے پانچ منزلہ مکان پر بمباری سے ۱۴ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ سب سے مہلک حملہ ۲۲ نومبر ۲۰۲۳ء کو الصبرہ کے ایک رہائشی بلاک پر ہوا جہاں تقریباً ۳۰۰ افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔
ڈاکٹر جادو ابو شریعہ نے اس جنازے کو ’’معاصر فلسطینی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ‘‘ قرار دیا۔ خاندان اب تک ۲۶۷ افراد کو سپردِ خاک کرچکا ہے جبکہ ۴۱ افراد تاحال لاپتا ہیں۔
طبی ذرائع کے مطابق جنگ کے دوران ۲ ہزار ۲۷۶ فلسطینی خاندان مکمل طور پر ختم ہوگئے، جن کے ۸ ہزار ۸۵۸ افراد بغیر کسی زندہ بچ جانے والے فرد کے جاں بحق ہوئے۔ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ