ٹرمپ کا تیل کمپنیوں کو انتباہ: "بہت کما لیا، اب امریکیوں کو سستا تیل فراہم کرو”

trump 5826 d


واشنگٹن — امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی تیل کمپنیوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب امریکی عوام کو سستا تیل فراہم کریں، کیونکہ ایران تنازع کے باعث دنیا بھر کی طرح امریکہ میں بھی تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے تیل کمپنیوں پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے موجودہ عالمی صورتحال سے خوب فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے خاص طور پر امریکی آئل کمپنی شیوران کے سربراہ مائیک وارتھ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حالیہ ٹی وی انٹرویو میں ٹرمپ انتظامیہ کی تیل منڈی سے متعلق پالیسیوں کا ذکر کرنا بھول گئے۔
مثال کے طور پر انہوں نے کہا کہ شیوران کو ماضی میں وینزویلا سے نکال دیا گیا تھا، لیکن ان کی انتظامیہ کی پالیسیوں کے باعث کمپنی دوبارہ وہاں کاروبار کر رہی ہے اور پہلے سے زیادہ منافع کما رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ اگر ان کی حکومت وینزویلا کے معاملے میں اقدامات نہ کرتی تو امریکی تیل کمپنیاں تباہ ہو چکی ہوتیں، اس لیے انہیں چاہیے کہ اب امریکی صارفین کے لیے قیمتیں کم کریں۔
آبنائے ہرمز اور ایران سے متعلق دعوے
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز جلد مکمل طور پر کھل جائے گا اور یہ کہ امریکہ کا اس آبنائے پر مکمل کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا مرحلہ ہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر بات چیت ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، اور یہ کہ آبنائے ہرمز میں کوئی فیس نہیں ہوگی — اگر کوئی اور وہاں چارج عائد کرے گا تو امریکہ بھی جوابی کارروائی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک طرح سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس معاہدے پر دستخط کرنے کا یہ آخری موقع ہے، ورنہ اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

متعلقہ پوسٹ