کوالالمپور: ملائیشیا کے حکام نے اسرائیل بھیجے جانے والے سامان سے بھرے ایک مشتبہ کنٹینر کو ضبط کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ریاست جوہر کی بندرگاہ تنجونگ پیلیپاس پر خفیہ اطلاع ملنے کے بعد کی گئی۔
ملائیشین بارڈر کنٹرول اینڈ پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق ابتدائی جانچ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ کھیپ کسٹم قوانین کی خلاف ورزی کر سکتی ہے، کیونکہ ملائیشیا نے اسرائیل کو براہِ راست یا بالواسطہ سامان کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
حکام نے سامان کی نوعیت، تفصیل اور ممکنہ استعمال کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کھیپ ’’اسٹریٹجک ٹریڈ ایکٹ‘‘ کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے کنٹینر ضبط کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اس عزم کا اظہار ہے کہ ملائیشیا کی سرزمین اسرائیل کی حمایت میں تجارتی راہداری کے طور پر استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی دسمبر 2023 میں عائد کی گئی حکومتی پابندیوں اور ’’دی ہیگ گروپ‘‘ کے تحت ملائیشیا کی ذمہ داریوں کے مطابق ہے۔ دی ہیگ گروپ نے بھی ضبطی کو بین الاقوامی قانون کے تحت ریاستوں کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی عملی مثال قرار دیا ہے۔
ملائیشیا، جو دی ہیگ گروپ کا بانی رکن ہے، اسرائیل کو ہتھیاروں اور دوہری استعمال کی اشیا کی منتقلی روکنے کا عہد کر چکا ہے۔ دسمبر 2023 میں ملائیشیا نے اسرائیلی شپنگ کمپنی زِم کو اپنی بندرگاہوں کے استعمال سے روکنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی پرچم والے جہازوں پر بھی پابندی عائد کی تھی۔
حالیہ کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشین حکام صرف اسرائیلی جہازوں ہی نہیں بلکہ اسرائیل جانے والی مشتبہ تجارتی کھیپ کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔

