ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس انتہائی اہم آبی گزرگاہ کا انتظام اور کنٹرول ایران کے ہاتھ میں ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق بسیج فورس کے سربراہ حسین طائب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول اور انتظام میں ہے۔
انھوں نے صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ جو لوگ آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں وہ جھوٹے ہیں۔ کوئی جہاز اب بھی ایران کی مرضی کے بغیر نہیں گزرے گا۔
بسیج فورس کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات طے پاجانے کے بعد بھی آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی اور کنٹرول ایران کا ہی برقرار رہے گا۔
انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے امریکا کو جون میں کیے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہوگا۔
حسین طائب کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان آبنائے ہرمز پر اختیار اور بحری آمدورفت کا تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں دعویٰ کرچکے ہیں کہ امریکا کو آبنائے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، جبکہ ایران اس مؤقف کو یکسر مسترد کررہا ہے۔
امریکا کا مؤقف رہا ہے کہ ایران کو عالمی تجارت کی اس اہم گزرگاہ پر یکطرفہ طور پر جہازوں کی آمدورفت روکنے یا ان پر شرائط عائد کرنے کا اختیار نہیں۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی اور آبنائے میں جہازرانی کی آزادی یقینی بنانے کے لیے فوجی اقدامات بھی کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز کس کے اختیار میں ہے؟
آبنائے ہرمز کی قانونی حیثیت اس تنازع کا ایک پیچیدہ پہلو ہے۔ یہ آبنائے اپنے تنگ ترین مقام پر تقریباً 21 ناٹیکل میل چوڑی ہے اور اس کے مختلف حصے ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں میں آتے ہیں۔
اس کے باوجود اسے بین الاقوامی جہازرانی کے لیے استعمال ہونے والی اہم آبنائے سمجھا جاتا ہے جہاں بین الاقوامی قانون کے تحت بحری آمدورفت کے حقوق کا معاملہ بھی موجود ہے۔
اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں پر ساحلی ریاستوں کی خودمختاری موجود ہے، جبکہ آبنائے بین الاقوامی جہازرانی کا راستہ بھی ہے۔ ایران اور امریکا دونوں نے آبنائے کے بارے میں اپنے اپنے قانونی اور سکیورٹی مؤقف پیش کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے اور دنیا کی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اسی وجہ سے یہاں معمولی کشیدگی بھی عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں، بحری انشورنس اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔
حالیہ تنازع کے باعث آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں کو ایرانی حملوں، امریکی ناکہ بندی اور بڑھتے ہوئے جنگی خطرات کے باعث راستے کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ہے۔

