میر رضا علی کی المناک موت، تفتیشی ٹیم قاتلوں کا سراغ لگانے میں سرگرداں

mir ali raza1787083048 0


 پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی تاجر، نوجوان میر رضا علی کی گولی لگی لاش گلستان جوہر سے 29 جولائی کی صبح ملی تھی جو کہ انتہائی خراب حالت میں پائی گئی۔ نوجوان کی موت کو پولیس نے ابتدائی طور پر خود کو سینے پر گولی مار کر خودکشی قرار دینے کی کوشش کی۔

اعلیٰ پولیس حکام کی جانب سے ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ سمیت دیگر پولیس افسران بھی شامل تھے، تحقیقاتی ٹیم کے ممبران نے متعدد بار جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور قریب نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی متعدد فوٹیجز بھی حاصل کیں جس میں میر رضا کو جائے وقوعہ کے قریب سڑک پر چلتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

نوجوان میر رضا علی کی لاش ملنے کے بعد ان کے والد میر حسین چیخ چیخ کر بولتے رہے کہ یہ قتل ہے، میرے بیٹے کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے لیکن کسی نے ان کہ ایک نہ سنی۔ نوجوان میر رضا کی گولی لگی لاش ملنے کے بعد اس کے اہلخانہ، دوست احباب، رشتے داروں، سول سوسائٹی اور دیگر کاروباری افراد کی جانب سے بہادر آباد، چار مینار اور شارع فیصل نرسری پر احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رہا اور ان کی جانب سے ایک ہی مطالبہ تھا کہ میر رضا کو انصاف فراہم کیا جائے۔ نوجوان میر رضا کی گولی لگی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہوگیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی رہی ۔

نوجوان میر رضا علی اپنے پیاروں کو روتا ، سسکتا اور بلکتا ہوا چھوڑ کر منوں مٹی تلے ابدی نیند تو سو گیا لیکن وہ پولیس کے تفتیشی نظام اور محکمہ صحت کے میڈیکو لیگل نظام کا نہ صرف پردہ چاک کر گیا بلکہ پولیس کی تفتیش پر بھی کئی سوالات چھوڑ گیا۔ نوجوان تاجر میر رضا کی لاش ملنے کے بعد تفتیش کے حوالے سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی جانب سے پولیس اور میڈیکو لیگل کی جانب سے برتی گئی کوتاہی کا اعتراف سامنے آیا ، وزیراعلیٰ سندھ نے ان کوتاہیوں کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی بھی پیشکش کی تھی۔

پولیس نوجوان کے قتل کو قرض داروں کو ادائیگی کے دباؤ میں خود کو گولی مار کر خودکشی قرار دینے میں بضد رہی اور نوجوان کی لاش ملنے کے بعد اس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی مجرمانہ غفلت پائی گئی۔ پوسٹ مارٹم کے دوران کئی اہم پہلوؤں کو نظرانداز کیا گیا جس کا اظہار خود اس محکمے کی سربراہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اپنے ماتحت ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھانے سے کر دیا۔ اس حوالے سے 14 سوالات پر مبنی ایک خط انھوں نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ زبیر نواز کو بھی ارسال کیا جس میں میر رضا کے پوسٹ مارٹم میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ میر رضا کی لاش کا ایکسرے نہیں کیا، فائرنگ کے بارودی ذرات کی جانچ کے لیے ہاتھوں کے نمونے نہیں لیے گئے، انٹری زخم پر موجود بارودی نشانات کا کیمیائی تجزیہ نہیں کیا گیا، سر اور گردن کا اندرونی معائنہ نہیں کیا گیا، فائرنگ کے زخموں کی سائنسی پیمائش اور فوٹوگرافی نہیں کی گئی ، انٹری اور ایگزٹ زخموں کی درست تشریح نہیں کی گئی اور انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے بڑا درج کیا گیا جس کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔

مقتول میر رضا کے پوسٹ مارٹم پر اٹھائے گئے سوالات پر عدالت کے حکم پر نوجوان کی موت کا تعین کرنے کے لیے اس کی قبرکشائی کی گئی جس کے لیے ماہرین پر مشتمل 8 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے مجسٹریٹ کی نگرانی میں سوسائٹی قبرستان میں نوجوان میر رضا کی قبرکشائی کر کے وجہ موت کا تعین سمیت دیگر پہلوؤؒں کی تحقیقات کے لیے نمونے حاصل کیے جس میں نوجوان کے ڈی این اے کے بھی نمونے حاصل کیے گئے جبکہ نوجوان کے والدین کے بھی ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے جو بعدازاں والدین کے ڈی این اے سے میچ کر گئے۔ نئی رپورٹ آنے کے بعد تو تہلکہ ہی مچ گیا۔ پولیس کی تفتیش اور کارکردگی پر کئی سوالات اٹھ گئے، ماہرین پر مشتمل 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی جانب سے بنائی رپورٹ کے مطابق نوجوان کو گولی کمر پر لگ کر دوسری جانب سینے سے پار ہونے کے شواہد سامنے آئے ، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کے سر، چہرے، گردن، سینے اور جسم کے دیگر حصوں پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بعض زخموں کے نیچے موجود ٹشوز میں خون جمع ہونے کے شواہد بھی ملنے کا ذکر کیا گیا۔

نئی میڈیکل رپورٹ میں قتل کے شواہد سامنے آنے کے بعد فیروز آباد تھانے میں درج اغوا کے مقدمے میں قتل کی دفعہ 302 کو بھی شامل کرلیا گیا جسکے بعد مقدمے میں شواہد چھپانے یا ضائع کرنیکی دفعہ 211 کا بھی اضافہ کر دیا گیا۔ مقتول نوجوان کے اہلخانہ اور وکیل جبران ناصر کی درخواست پر ایس ایس پی ایس آئی یو سمیع اللہ سرمرو کی سربراہی میں قائم کی گئی تحقیقاتی ٹیم کو ختم کر کے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں نئی ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ایس ایس پی محمد علی رضا سیکرٹری جبکہ دیگر ممبران میں ایس پی انویسٹی گیشن کورنگی قیس خان ، ایس پی انویسٹی گیشن سینٹرل انعم تجمل سمیت دیگر پولیس افسران کو شامل کیا گیا ہے جس کے بعد ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم نے اپنا کام شروع کر دیا ہے ۔

نوجوان میر رضا کا قتل ثابت ہونے کے بعد ان کے والد نے رہائش گاہ پر اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں ان کے وکیل جبران ناصر نے ایس ایس پی سمیع اللہ سرمرو کی سربراہی میں قائم پرانی تفتیشی ٹیم کا کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ وکیل جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ دستیاب شواہد کے مطابق میر رضا 28 جولائی کی شام تک زندہ تھا اور اس کے بعد اسے قتل کیا گیا ، لاش تقریباً 20 سے 22 گھنٹے پرانی تھی جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ میر رضا کو قتل سے قبل تقریباً 12 گھنٹے تک کسی کی قید میں رکھا گیا ، میر رضا کے چہرے کو محض موت کے بعد لاش کے گلنے سڑنے سے نقصان نہیں پہنچا بلکہ چہرے پر تیزاب ڈالے جانے کے شواہد موجود ہیں۔ میر رضا کیس میں غفلت اور لاپروائی کی انتہا کی گئی۔ پریس کانفرنس کے دوران مقتول نوجوان کے والد میر حسین کا کہنا تھا کہ پولیس نے میر رضا کے دوستوں کو بلایا تھا اور انھیں اس معاملے کو خودکشی قرار دینے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تاہم دوستوں نے واضح کر دیا کہ میر رضا خودکشی نہیں کرسکتا۔

مقتول میر رضا علی آئی بی اے کا طالب علم تھا جس نے اپنی کوششوں سے وافلیکس کے نام سے کا کاروبار شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے وافلس بچوں اور نوجوانوں میں بہت تیزی سے مقبول ہوگئے۔ میر رضا نے اپنی کوششوں اور ذہانت سے کاروبار کو وسعت دے کر کر نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ وہ 27 اور 28 جولائی کی درمیانی شب 4 بجے کے قریب اپنی رہائش گاہ پی ای سی ایچ ایس سے آن لائن ٹیکسی کر کے گلستان جوہر گیا تھا جس کی گھر سے جاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی۔ بعدازاں وہ لاپتہ ہوگیا جسکے بعد نوجوان کی گولی لگی لاش 29 جولائی کی صبح اسی علاقے سے ملی تھی جہاں وہ آن لائن ٹیکسی سے ڈراپ ہوا تھا۔ میر رضا تو بے بسی کے عالم میں اس دنیا سے تو چلا گیا لیکن اس کے اہلخانہ کو یقین ہے کہ انھیں انصاف ملے گا اور ان کے لخت جگر کے قتل کا معمہ ضرور اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا لیکن اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا کہ میر رضا کا قتل کس نے، کب ، کہاں اور کیوں کیا تھا تاہم نئی تفتیشی ٹیم نوجوان میر رضا کے قتل کی تحقیقات اور شواہد کے حصول میں مصروف اور پرعزم ہے۔ 





Source link

متعلقہ پوسٹ