ان روایتی ، مشہور ومعروف ’’جنات‘‘ کے بارے میں سب سے قابل غوربات تو یہ ہے کہ ایسی مخلوق موجود ہے جو ہرلحاظ سے انسانوں سے برتر ہے، حاوی ہے اورطاقتور ہے جوچاہے کرسکتی ہے، انسانوں کو طرح طرح سے ستا سکتی ہے، چشم زدن میں حاضر غائب ہوسکتی ہے، پلک جھپکنے میں یہاں سے وہاں جاسکتی ہے، اڑ سکتی ہے، انسانوں پر بیٹھ کر اپنے بس میں کرسکتی ہے اور انسان ان کے سامنے بے بس ہے، مطلب یہ کہ جو چاہے وہ انسان کے ساتھ کرسکتی ہے، انھیں ایک طرح سے ’’کائناتی غنڈے ‘‘ کہا جاسکتا ہے تو پھر ایسی حالت میں اشرف المخلوقات انسان کی کیا پوزیشن ہوئی جس کے سر پر ہرقسم کا شرف کا تاج ہے ،حیوان اعلیٰ ، حیوان ناطق ، حیوان عاقل۔ یہ کائناتی غنڈے جنات اس انسان کے ساتھ کیا کیا غنڈہ گردی نہیں کرتے ؟تو پھر انسان کی حفاظت کیسے ہو گی اور وہ اپنا بچاؤ کیسے کر سکتا ہے۔
یہ بھی چھوڑئیے ، پھر انتہائی غلیظ قسم کے عامل اورجنتر منتر والے ان کائناتی غنڈوں کو ایک چف کرکے کان سے پکڑلیتے ہیں، انھیں مارتے پیٹتے ہیں، بھسم کرتے ہیں اوربوتلوں کوزوں میں بند کرتے ہیں، بھگاتے ہیں ،سزائیں دیتے ہیں ،اپنا غلام بنالیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ عامل جنتر منتر والے جنات سے بھی زیادہ طاقتور ہیں بلکہ کہئے تو یہ گندے چہرے ،گندے منہ، گندے کرتوت والے جنات کو مطیع کرلیتے ہیں ، جب ڈاکٹر اور حکیم بے اولادی، کینسر اوردوسرے ناقابل علاج عوارض کا علاج نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ کائناتی غنڈے جنات اوران کے دکاندار جب چاہیں سب کچھ کر سکتے ہیں۔
چند ٹکوں کے عوض ناممکن کو ممکن کردیتے ہیں، یہ میں ان جنات اور عاملوں کی بات کررہا ہوں جو آج کل بیسٹ سیلر ہیں جہاں تک قرآن میں ذکر شدہ جنات کاذکر ہے وہ چیزہی کچھ اورہیں ،وہ کوئی اور مخلوق ہیں،یہ وہ مخلوق نہیں جو عامل قابو کرتے پھرتے اور لوگوں سے پیسے بٹورتے ہیں، ان پر الگ سے تفصیلی بات کروں گا۔ فی الحال یہ جنات جو ان عاملوں کی دکانداری کا زبردست آئٹم ہیں جو لوگوں پر بیٹھتے ہیں نوجوان عورتوں کو قابو کر لیتے ہیں ،بیمار بناتے ہیں اورپلک جھپکنے میں روپ بدلتے ہیں ۔اس سلسلے میں ایسے ایسے ناروا اورغلط کام ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ، اکثر عامل پہلے تو جنات زدہ عورتوں کو مارتے پیٹتے ہیں، طرح طرح کی اذیتیں دیتے ہیں یہ کہہ کر کہ اذیتیں جنات کو دے رہے ہیں پھر جب اس پر بھی ’’جن‘‘ اترتے نہیں تو کہتے ہیں کہ یہ بہت کافر جن ہیں اب ان کے ساتھ ’’براکام‘‘ کیے بغیر چارہ نہیں ۔ حالانکہ ایساکچھ نہیں، جنات ونات کچھ نہیں ہوتے، یہ ایک عام زنانہ مرض ہے جسے اردو میں اخناق الرحم اورانگریزی میں ہسٹریا کہتے ہیں یہ کچھ خواتین کو لاحق ہوتا ہے ، نوجوان ہونے والی لڑکیوں ، شادی کی عمر گزرجانے والی لڑکیوں ، جوانی میں بیوہ ہونے والی عورتوں یا طویل عرصے تک شوہر سے دور رہنے والی خواتین کو لاحق ہوتا ہے ۔
خیر ’’جنات‘‘ کی بات کرتے ہیں جو قدرت کے بنائے ہوئے اس عظیم کارخانے میں ٹھگ باز عاملوں کی لائی ہوئی نہ تو ایسی کوئی مخلوق موجود ہے نہ ممکن ہے نہ اس کی گنجائش ہے ۔
اﷲ تعالی نے فرمایا ہے کہ اس نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔
خلق الازواج کلہا۔۔۔مطلب یہ کہ اس کائنات میں جہاں بھی ۔ جو کچھ بھی ہے ،جوڑوں میں ہے اگر کوئی چیز منفی ہے تو اس کا مثبت بھی ضرورہوگا اوراگر مثبت ہے تو اس کا منفی بھی ہوگا۔
جیسے خیروشر، سفید وسیاہ، اجالا اندھیرا، دن اور رات ، اوپر نیچے ، میٹھاکڑوا، نرومادہ ۔
چنانچہ اس کائنات میں مادہ اور توانائی ہی ہرجگہ کارفرما ہیں اوران دونوں کے ملاپ کے بغیر کوئی حرکت کوئی پیدائش کوئی ارتقاء ممکن نہیں ہے ، چینی فلسفہ میں اسے ین اورینگ یعنی حرکت و سکون ، زندگی یا موت کہاجاتا ہے ، ان دونوں کے ملاپ اوریکجا ہونے ہی سے کچھ ہوگا ، اسی آیت مبارکہ میں آگے کہا گیا ہے ’’خلق الازواج کلہا ‘‘ چاہے وہ زمین سے اگتی ہوں یاتمہارے اندر ہیں یاجن کے بارے میں تم نہیں جانتے ۔
بجلی کاکرنٹ انرجی ہے، بہت بڑی قوت ہے لیکن جب جب تک مادی تاروں ، لائنوں آلات مشینوں بلبوں وغیرہ سے ملاپ نہیں ہوجاتا بیکار محض ہوتا ہے اوریہی مادی آلات بلب اورمشین تب تک مردہ ہوتی ہیں جب تک بجلی کی قوت سے ملاپ نہیں ہوتا ۔
انسانی جسم مادی ہوتا ہے اورجان یاروح کچھ کہیے اس میں رہتی ہے تو زندہ ہوتا ہے متحرک ہوتا ہے بڑے بڑے کام کرتا ہے لیکن جان یاانرجی جاتی ہے تو خود کو گلنے سڑنے سے بھی بچا نہیں پاتا۔ اسی طرح آگ تو خود مادے اورانرجی کا مرکب ہے، شعلہ بھی کسی مادی چیز کی رگڑ سے پیدا ہوتا ہے اورپھر اسے ہمہ وقت کسی نہ کسی مادی ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے ایندھن نہ ملے تو فوراً مرجائے گی اورچونکہ مادے اورانرجی کامرکب ہے تو نظروں سے اوجھل نہیں ہوسکتی ۔
آگ اوجھل ہوہی نہیں سکتی اوراگر توانائی ہے تو دکھائی نہیں دے سکتی ، اورآگ کی زندگی ایندھن کے وجود تک ہوتی ہے ۔بہرحال جنات ہو یاکوئی اورمخلوق مادے اورانرجی کے ملاپ کے بغیر ممکن نہیں ۔

