گورنر ہاؤس کراچی میں سیرت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں مذہبی اسکالرز اور علما کرام نے شرکت کی۔ سیرت کانفرنس میں مفتی تقی عثمانی، علامہ شہنشاہ نقوی سمیت دیگر مذہبی شخصیات موجود تھیں۔
علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ نوجوانوں کو برداشت کا پیغام اور ایک دوسرے کو قبول کرنا ہے۔ آیت اللہ خامنائی کی شہادت کے بعد سب ایک ہوگئے ہیں، 90 فیصد مخالفت غلط فہمی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
قاری عثمان نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہر طریقے سے سیرت طیبہ کو اپنایا جائے۔ ہمیں سیرت پر چلنا ہوگا، تب ہی ہم باطل کا مقابلہ کرسکیں گے۔ کفر عالم اسلام پر حملہ آور ہے، آج کا نوجوان بے راہ روی کا شکار ہے جس کی اصل وجہ سیرت پاک سے دوری ہے۔
پیر سید اظہر شاہ ہمدانی نے کہا کہ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں کو سیرت پاک سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ آج کا نوجوان اور والدین مال کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کیلئے پیغام ہے کہ وہ سیرت کے ساتھ جڑ جائیں۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ سیرت طیبہ کی رہنمائی کے دو پہلو ہیں، پہلا یہ کہ سیرت طیبہ کو عملی طور پر پڑھا جائے اور پڑھایا جائے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جامعات میں چاہے جو بھی مضامین پڑھائے جائیں، مگر سیرت طیبہ کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سیرت طیبہ کو جامعات اور تعلیمی اداروں میں ایک اہم موضوع کے طور پر اپنایا جائے اور نوجوانوں کی تعمیر و ترقی کی جائے۔ جب سیرت طیبہ کا مطالعہ کرایا جائے تو محض فکری طور پر نہ ہو بلکہ ان کی سنت پر بھی عمل کیا جائے۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ سیرت طیبہ کا مطالبہ ہے کہ ہم صبح سے لے کر شام تک اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے اسوہ حسنہ کی کتنی پیروی کی۔ اقتباسِ سنت کے ذریعے صحابہ کرام نے دنیا میں انقلاب برپا کیا۔ ہم سنت پر عمل کریں گے تو نوجوان بھی عمل کریں گے، ہم اگر سنت سے غافل ہوگئے تو نوجوان کیا جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا میں اختلاف کی بنیاد پر گالیاں دی جاتی ہیں۔ ہر گھرانے میں کچھ وقت ایسا ہونا چاہیے جس میں سب مل کر بیٹھیں اور سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا جائے۔ ہم سنت پر عمل کرکے اپنی ذات کو نوجوانوں کیلئے نمونہ بنائیں۔

