چین کے شہر شینزین میں قائم LineShine سپر کمپیوٹر دنیا کا سب سے طاقتور سپر کمپیوٹر بن گیا ہے

su 250626 d 1

۔ منگل کو جاری ہونے والی TOP500 کی تازہ عالمی درجہ بندی میں اس نے امریکی سپر کمپیوٹر El Capitan کو پیچھے چھوڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔ یہ ۲۰۱۷ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی چینی سپر کمپیوٹر نے دنیا کی اس باوقار فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جسے اکثر کسی ملک کی تکنیکی اور سائنسی صلاحیت کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ پہلی پوزیشن چین نے حاصل کی، تاہم دنیا کے ٹاپ ۱۰؍  سپر کمپیوٹرز میں چار یورپی سپر کمپیوٹرز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: حکومت ہوائی جہاز ایندھن کے دام پر سے سرچارج ہٹانے کیلئے ایئر لائنز سے بات کرے گی

سپر کمپیوٹرز ایسے انتہائی طاقتور کمپیوٹر ہوتے ہیں جو پیچیدہ سائنسی حسابات انتہائی تیزی سے انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا استعمال ادویات کی دریافت، موسمیاتی اور موسم کی پیش گوئی، بلیک ہولز کی ماڈلنگ، سائنسی تحقیق اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا کے تجزیے میں کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سپر کمپیوٹرز کا ایک اہم استعمال مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ماڈلز کی تیاری اور تربیت بھی ہے۔
TOP500 منصوبے سے وابستہ سائنس دانوں کے مطابق چین کے نیشنل سپر کمپیوٹنگ سینٹر میں نصب LineShine نے 2.198 Exaflops کی رفتار حاصل کی، یعنی یہ ایک سیکنڈ میں ۲؍ کوئنٹلین (2 Quintillion) سے زیادہ حسابات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکہ کا El Capitan، جو کیلیفورنیا میں واقع Lawrence Livermore National Laboratory میں نصب ہے، اب دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اس کے بعد ٹینیسی اور الینوائے کی قومی لیبارٹریوں میں موجود دو دیگر امریکی سپر کمپیوٹرز کا نمبر آتا ہے۔
یہ پانچوں دنیا کے واحد عوامی طور پر تصدیق شدہ Exascale سپر کمپیوٹرز ہیں۔ اگرچہ Exascale کا درجہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ بنیادی طور پر اس رفتار کی پیمائش ہے کہ کوئی سپر کمپیوٹر ایک سیکنڈ میں کتنے آپریشن انجام دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: میٹا نے ۲۹۹؍ ڈالر کے اے آئی اسمارٹ گلاسیز متعارف کروائے

ٹاپ ۵۰۰؍ کی تازہ فہرست کے مطابق ٹاپ 10 میں مشینوں والے دیگر ممالک میں اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور جاپان بھی شامل ہیں، جبکہ ٹاپ ۲۰؍ میں اسپین، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ کے سپر کمپیوٹرز بھی موجود ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ سال یورپی یونین نے تقریباً ۲۰؍ ارب یورو کی لاگت سے AI Gigafactories قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جن میں سپر کمپیوٹرز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی اگلی نسل کے ماڈلز تیار کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا مقصد سپر کمپیوٹنگ مراکز، جامعات اور کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔

LineShine کی  سبسڈی نہیں ہے، جبکہ مغربی  بڑا چیلنج بن رہی ہے۔ تاہم لی کیانگ نے کہا کہ اسے ’’China Opportunity 2.0‘‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’عالمی ترقی کے نقطۂ نظر سے ‘China Opportunity 2.0’ کا مطلب جدید ٹیکنالوجیز تک وسیع تر رسائی اور ان کے فوائد کی زیادہ منصفانہ تقسیم ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اڈانی گروپ اب نیوکلیائی توانائی کے شعبہ میں بھی قدم رکھے گا

متعلقہ پوسٹ