ایران: خامنہ ای کا تابوت جنگی طیاروں کے تحفظ میں مشہد پہنچا، ٹرمپ کے قتل کے پوسٹر آویزاں

banner d


مشہد، 9 جولائی 2026
سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا تابوت جمعرات کو جنگی طیاروں کی حفاظت میں شہید ہاشمی نژاد ہوائی اڈے پہنچا، جہاں سے اسے حتمی تدفین کے لیے امام رضا کے حرم منتقل کیا گیا۔ تابوت کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ کے ارکان بھی تھے جو 28 فروری کو امریکی-اسرائیلی مشترکہ فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے: بیٹی سیدہ بشریٰ حسینی خامنہ ای، داماد مصباح الہدیٰ باقری کنی، بہو زہرا حداد عادل، نواسی زہرا محمد گلپائگانی، اور اہلیہ منصورہ خواجستہ باقرزادہ۔
مشہد پہنچنے سے قبل تابوت عراق سے گزرا، جہاں نجف اور کربلا میں بھی جنازے کی تقریبات ہوئیں۔ مہر نیوز کے مطابق مشہد میں امام رضا اسٹریٹ پر ”ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے“ کا بینر آویزاں کیا گیا۔
اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح کے درمیان آبنائے ہرمز کے قریب دوسری بار حملے کیے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سیریک، بوشہر، کنارک، چابہار اور بندرعباس میں دھماکوں کی اطلاعات ملیں، جن میں مبینہ طور پر تقریباً 90 مزید ایرانی فوجی و نقل و حمل کے اہداف نشانہ بنائے گئے۔
انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ان کے قتل کی سازش کر رہا ہے اور کہا: ’’وہ برے اور بیمار لوگ ہیں، اور ہمیں اس کینسر سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔‘‘

متعلقہ پوسٹ