اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے بند کمرے کی ایک گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ اگر حالات میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو ان کی جماعت لیکوڈ آئندہ قانون ساز انتخابات ہار جائے گی۔ اسرائیلی سرکاری براڈکاسٹر کے این کے مطابق، نیتن یاہو نے تسلیم کیا کہ ان کی پارٹی کو۱۰؍ نشستوں کا نقصان پہنچا ہے، اور مبینہ طور پر ان کا کہنا تھا: ’’مجھے نہیں معلوم کہ انہیں واپس کیسے حاصل کیا جائے۔‘‘
براڈکاسٹر کے مطابق نیتن یاہو کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے حق میں آنے والے سروے کے نتائج پر بھی شک کا اظہار کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کی پارٹی کی اصل پوزیشن سرکاری سروے سے بھی بدتر ہے۔
اسرائیلی چینل۱۳؍ کے تازہ سروے کے مطابق، اگر آج انتخابات ہوں تو آئزن کوٹ کی پارٹی کو۲۴؍ نشستیں ملیں گی (گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں۲؍ کم)، جبکہ لیکوڈ کو۱۹؍ نشستیں حاصل ہوں گی (پچھلے سروے میں۲۳؍ تھیں)۔ آئزن کوٹ کی قیادت میں یہودی اپوزیشن اتحاد کو۵۷؍ نشستیں، نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو۴۸؍، جبکہ عرب جماعتوں کو۱۵؍ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ کنیسیٹ کی۱۲۰؍ نشستوں میں حکومت سازی کے لیے کم از کم۶۱؍ ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے مقبول امیدوار کے سوال پر آئزن کوٹ۴۶؍ فیصد حمایت کے ساتھ آگے رہے، نیتن یاہو کو۳۵؍ فیصد حمایت ملی، جبکہ۱۹؍ فیصد نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔
اسرائیل میں عام انتخابات۲۷؍ اکتوبر کو متوقع ہیں، جنہیں نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ان پر بدعنوانی اور اقتدار کے غلط استعمال کے الزامات عائد ہیں۔۷۶؍ سالہ نیتن یاہو دسمبر۲۰۲۲ء سے اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں، اور اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو مطلوب ہیں۔

