پاکستان میں عام رجحان ہے کہ اپنے احتساب یا اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بجائے ہمیشہ دوسروں کی کارکردگی میں نقائص ڈھونڈے جاتے ہیں۔
اس کی تازہ مثال وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں جو کہ ہر کام میں مہارت کے اگلے درجے پر فائض نظر آتے ہیں، چاہے خارجہ پالیسی مسائل ہوں یا کرکٹ کا میدان، ابلاغیات کے ادارے، دہشت گردوں کے خلاف جنگ یا اسلام آباد میں انڈر پاسز کی تعمیر, یہ ہر میدان میں آگے نظر آتے ہیں۔
انہیں کرکٹ ٹیم کی، جس کے بورڈ کے وہ سربراہ ہیں، حالیہ افسوس ناک کارکردگی میں کرکٹ کے نظام کی تباہی نہیں دکھائی دیتی۔ لیکن جس سیاسی نظام کا وہ خود ایک بڑا حصہ ہیں اور اسے چلانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس میں انہیں اپنے یا کسی کے سیاسی مفادات کی وجہ سے تباہی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے زیر قیادت اسلام آباد کو انتظامی طور پر چلانے والا ادارہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی کارکردگی پر کھل کر عوام کی جانب سے تنقید ہو رہی ہے لیکن انہیں اس کی کارکردگی بہتر کرنے میں بظاہر کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ اس کی بجائے وہ پورے ملک کے سیاسی نظام اور آئینی ترتیب کو درست کرنے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔
ان کے زیر انتظام سی ڈی اے کے نئے منصوبے مارگلہ انکلیو نے علاقے کے ہزاروں رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بظاہر یہ ایک غیر سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے جس نے زون فور کے مضافاتی علاقے کو نہ صرف ماحولیاتی نقصان سے دو چار کیا ہے بلکہ غیر ضروری طور پر ہزاروں لوگوں کے کو اپنے گھروں سے دربدر ہونے پر بھی مجبور کیا۔
سابق سفیر آصف درانی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سفر کرنے والوں کی مشکلات کا احاطہ کیا۔
قریب میں پہلے سے موجود ایک بڑے رہائشی منصوبے پارک انکلیو کی بری حالت میں موجودگی کے باوجود اس نئے رہائشی منصوبے کی بعض ماہرین کے مطابق ہرگز کسی قسم کی ضرورت نہیں تھی۔ پارک انکلیو میں تو کسی قسم کا کوئی ترقیاتی کام ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے میں پہلے سے موجود اور آباد رہائشی منصوبے بحریہ انکلیو اور پارک ویو سٹی موجود ہیں جو کہ سی ڈی اے کے نئے منصوبے سے بہت کم قیمت پر پلاٹ اور بہتر رہائشی سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔
This diversion at the under-construction pass at Park Road has become a nightmare for commuters for the past eight months. If the contractors had shown a little decency, they would have black-topped the diversion surface to spare commuters the daily humiliation. pic.twitter.com/BoWx69lqau
— Asif Durrani (@AsifDurrani20) August 25, 2026
اس کے علاوہ اسی علاقے میں وفاقی حکومت کے ملازمین کی فاؤنڈیشن مارگلہ آرچرڈ بھی زیر تکمیل ہے۔ اس کے ساتھ اسلام آباد میں ایف 12, 14 ، 15 اور دیگر نئے سیکٹروں پر بھی ترقیاتی کام جاری ہے۔ ان سب بڑے رہائشی منصوبوں کی موجودگی میں سی ڈی اے خصوصا وزیر داخلہ کی اس منصوبے کی پرجوش حمایت کی وجہ، علاقے کی رہائشوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ منصوبہ کچھ طاقتور شخصیات اور اداروں کے فائدے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق ترقیاتی کاموں کا ٹھیکہ دینے کے لیے حکومت پاکستان نے مروجہ قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس منصوبے کا کنٹریکٹ دے دیا تھا۔ بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ سی ڈی اے نے ایک دوسری ہاؤسنگ اتھارٹی کو شراکت داری کی بنیاد پر پورے سیکٹر کی خرید و فروخت کا بھی اختیار دے دیا۔
عموما سرکاری طور پر ایسے منصوبوں پر کام کے آغاز سے قبل اس کے ماحولیاتی اور علاقے کے دیگر رہائشوں پر اثرات کا ایک تفصیلی مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی لوگوں کی رضامندی یا ان کے مشوروں پر بھی غور کیا جاتا ہے۔ لیکن اس منصوبے کا آناً فاناً افتتاح ہوا، برق رفتاری سے لوگوں کے مکانات کو گرایا گیا اور ساتھ ساتھ کوری ماڈل ویلج کے لیے مخصوص جگہ بھی لے لی گئی۔ اس کے علاوہ ہزاروں درختوں کو نشانہ بنایا گیا اور پہلے سے موجود انفراسٹرکچر جس کو وہاں پر پہلے سے آباد رہائشی منصوبوں میں رہائش پذیر لوگ روزانہ کی بنیادوں پر استعمال کر رہے تھے شدید توڑ پھوڑ کا شکار بنا دیا۔ یہ زرخیز علاقہ اسلام آباد کے رہائشوں کے لیے سستی سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے خورد و نوش بھی مہیا کر رہا تھا۔ اسے بھی ختم کر دیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس ماحولیاتی تباہی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ اس علاقے میں پہلے سے موجود انفراسٹرکچر کو جسے اس منصوبے کی ابتدا سے ہی سخت نقصان پہنچایا گیا پر کام ترجیحی بنیادوں پر تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے گا۔ لیکن اس کے بدلے اس علاقے کی مکینوں کو تقریبا پچھلے آٹھ مہینوں سے روزانہ کی بنیاد پر ایک ڈراؤنے خواب سے گزرنا پڑتا ہے جب وہ اپنے کاموں کے لیے اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں۔
انہیں پہلے جناح روڈ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں صرف دو راؤنڈ اباؤٹ بنانے ہیں مگر وہ ابھی تک تکمیل کا صرف خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس سست رفتار ترقیاتی کام کی وجہ سے نہ صرف اس سارے علاقے میں ہر وقت گرد و غبار کے بادل چھائے ہوتے ہیں بلکہ گاڑیوں کو ٹوٹے ہوئے راستوں کے استعمال کی وجہ سے مختلف نقصانات کے علاوہ ایندھن کے زیادہ استعمال کا دباؤ بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
سی ڈی اے نے اس منصوبے کی تکمیل کی کوئی نئی حتمی تاریخ ابھی تک نہیں دی۔ اس سے قبل انڈر پاس کی تکمیل اور افتتاح کے لیے 30 جولائی 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی، لیکن مقررہ وقت گزرنے کے باوجود کام جاری رہا، جس سے پارک روڈ استعمال کرنے والے شہریوں کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
یہ صورت حال پارک روڈ پر جا کر مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے جہاں ہزاروں گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر اس پل صراط کا سامنا کرتی ہیں۔ پارک روڈ حال ہی میں تقریبا دو سال کے سست اور صبر آزما تعمیراتی کام کے بعد مکمل ہوا تھا اور صرف کچھ مہینوں بعد ہی اسے دوبارہ توڑ دیا گیا۔ عام حالات میں جو راستہ صرف 20 سیکنڈ میں طے ہوتا تھا آج کل رش والے اوقات میں ایک گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے پاتا ہے۔ اور اگر اپ اسلام آباد سے واپسی پر پارک روڈ استعمال کر رہے ہیں تو اس تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
پارک روڈ اور این آئی ایچ کی متبادل روڈ ایک جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کرتے ہیں جس میں ہر وقت پانی کھڑا ہوتا ہے یا بڑے بڑے گڑھوں سے گزر کر اپ کو اپنی منزل مقصود پر تھکے ہارے پہنچنا پڑتا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ روزانہ کی بنیاد پر اس منصوبے کے خالق اور ان ترقیاتی اداروں کو جن خیالات اور القابات سے یاد کرتے ہیں انہیں اس کا شاید ادراک نہ ہو۔ عموما ایسے ترقیاتی منصوبوں میں ٹریفک کی روانی کے لیے متبادل راستوں کی تعمیر پہلے کی جاتی ہے اور یہ ٹینڈر کا اہم حصہ ہوتی ہے جس کی قیمت تعمیری معاہدے میں شامل ہوتی ہے۔ یقینا موجودہ کمپنی نے اس مد میں تمام رقم بچائی جس کی تحقیقات اس نظام کے نوحہ خواں وزیر کو کرنی چاہیے۔
یہ پارک روڈ کا حال ہے جہاں عوام روزانہ صبح و شام عذاب بھگتنے پر مجبور ہیں۔ سی ڈی اے اور متعلقہ اداروں کی نااہلی اور بے حسی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ سڑک کی حالت بہتر بنانے کے بجائے شہریوں کو گھنٹوں ٹریفک جام میں ذلیل و خوار ہونے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ گاڑیاں خراب ہوں pic.twitter.com/tKn10TlVvX
— Muhammad DAUD (@daud_khan) August 20, 2026
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ نظام کی ناکامی کا رونا رونے والے کم از کم اپنے زیر انتظام ادارے کی کارکردگی کو تو بہتر کر لیں۔ وہ اسلام آباد میں تو کچھ مقتدر لوگوں اور اداروں کی نظر میں رہنے کے لیے انڈر پاسز ایک مہینے میں مکمل کر دیتے ہیں تو اس پراجیکٹ کے ایک چھوٹے سے انڈر پاس کو پچھلے آٹھ مہینوں سے کیوں مکمل نہیں کر پا رہے۔
مقامی متاثرہ افراد سوچتے ہیں کہ شاید اس علاقے میں کوئی اہم شخصیت یا اہم ادارہ موجود نہیں جس کی وجہ سے اس علاقے کے رہائشیوں کو اس تکلیف دے صورت حال سے دوچار کیا گیا ہوا ہے۔ یا جان بوجھ کر اس علاقے کے دوسرے پرائیویٹ رہائشی منصوبوں سے لوگوں کو بددل کرنے اور مارگلا انکلیو میں رہائش کی ترغیب کے لیے اس منصوبے پر سست روی سے کام کیا جا رہا ہے؟
اس منصوبے کے بارے میں سی ڈی حکام سے موقف کے خاطر رابطہ کیا گیا لیکن جواب موصول نہیں ہوا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

