امریکہ: ۷۴ فیصد انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے: سروے

grad 300826 d


واشنگٹن — برینڈیس یونیورسٹی کے مورس اینڈ مارلن کوہن سینٹر فار ماڈرن جیوش اسٹڈیز کی اگست ۲۰۲۶ء میں جاری کردہ ایک نئی تحقیق کے مطابق، ۷۴ فیصد امریکی انڈرگریجویٹ طلبہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے۔
"امریکن انڈرگریجویٹس اینڈ دی اسرائیلی-فلسطینی تنازع” کے عنوان سے کیے گئے اس مطالعے میں ۳۰۳ امریکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ۳۹۸۹ طلبہ کا آن لائن سروے شامل تھا، جو اکتوبر ۲۰۲۵ء سے جنوری ۲۰۲۶ء کے دوران پولنگ فرم جنریشن لیب نے کروایا۔
رپورٹ کے مطابق ۸۲ فیصد طلبہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ صرف ۲۵ فیصد اس بات سے متفق نہیں کہ اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔
طلبہ کی رائے اس بنیاد پر بھی نمایاں طور پر مختلف پائی گئی کہ سوال کس فریق کے بارے میں پوچھا گیا۔ ۷۷ فیصد طلبہ فلسطینی عوام کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں جبکہ ۵۲ فیصد اسرائیلی عوام کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔ حکومتی سطح پر یہ فرق مزید بڑھ جاتا ہے: ۴۱ فیصد فلسطینی اتھارٹی کو مثبت خیال کرتے ہیں جبکہ صرف ۱۵ فیصد اسرائیلی حکومت کے بارے میں ایسی ہی رائے رکھتے ہیں۔ ۴۶ فیصد طلبہ اسرائیلی حکومت کو "انتہائی غیر مثبت” اور مزید ۳۹ فیصد "غیر مثبت” قرار دیتے ہیں۔
محققین نے تاہم خبردار کیا کہ نسل کشی کے بیان سے اتفاق کا مطلب تنازع پر یکساں یا متحد موقف نہیں۔ سختی سے فلسطین نواز طلبہ میں سے ۹۸ فیصد اس بیان کی تائید کرتے ہیں، جبکہ خود کو تنازع سے کم آگاہ اور غیر دلچسپ بتانے والے ۸۴ فیصد طلبہ بھی اس سے متفق پائے گئے۔
مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ سیاسی وابستگی — نہ کہ تنازع کے بارے میں طالب علم کا عمومی رجحان — نسل کشی کے دعوے سے اتفاق کی سب سے بہتر وضاحت کرتی ہے: خود کو انتہائی لبرل کہنے والے ۹۴ فیصد طلبہ متفق ہیں جبکہ قدامت پسند طلبہ میں یہ شرح صرف ۴۵ فیصد ہے۔
تحقیق کے مطابق ایک چوتھائی سے بھی کم طلبہ اسرائیل (حکومت اور عوام دونوں) کے خلاف گہری دشمنی رکھتے ہیں، جن میں سے تقریباً نصف حماس سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس نصف سے زائد طلبہ کے تنازع پر خیالات غیر واضح پائے گئے، جن میں اکثریت نے موضوع سے محدود واقفیت کا اعتراف کیا اور اسے امریکی داخلی مسائل جیسے نسل پرستی اور امیگریشن کے مقابلے میں کم ترجیح دی۔
یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی چھاپے اور گرفتاریاں جاری ہیں اور فلسطینیوں کی املاک پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی کی اسرائیلی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۴ ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ