رام مادھو کی بی جے پی میں واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان کو لے کر بحث تیز ہے۔ مادھو کہہ ر ہے ہیں کہ وزیر اعظم کے اس تبصرے نے ممکنہ طور پر حکومت سے اختلاف رکھنے والوں کو پریشان کر دیا ہے۔ تاہم، ان کی یہ قیاس آرائی غلط ہے، کیونکہ ملک کا نوجوان ’دماغی نکسل‘ کہلائے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
گزشتہ22اگست 2026 کو نئی دہلی میں بی جے پی کے ہیڈکوارٹرمیں انتخابی حکمت عملی اور زمینی سطح پر لوگوں تک رسائی کے حوالے سے پارٹی کے قومی صدر نتن نوین کی پارٹی کے نئے مقرر کیے گئے قومی عہدیداروں کے ساتھ پہلی میٹنگ کے دوران بی جے پی لیڈر رام مادھو۔ (تصویر: پی ٹی آئی/روی چودھری)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے مفکر رام مادھو کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں حالیہ ردوبدل کے دوران قومی نائب صدر بنایا گیا ہے۔ نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت والی بی جے پی میں وہ گزشتہ چند برسوں سے حاشیے پر تھے۔ ایسے میں ان کی واپسی کا وقت انتہائی اہم ہے۔ لہٰذا، مادھو کی واپسی کو محض ایک تنظیمی ردوبدل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
قابل ذکر ہے کہ مادھو کی تقرری ایسے وقت میںہوئی ہے جب ملک بھر میں نوجوان تعلیمی نظام کی بدحالی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان مظاہروں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک مضبوط رہنما والی امیج کو بھی مسخ کر دیا ہے۔ مادھو کی تقرری وزیر اعظم مودی کی 15 اگست کی لال قلعے سے کی گئی تقریر کے صرف دو دن بعد ہوئی۔ اسی تقریر میں مودی نے پہلی مرتبہ عوامی طور پر ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔
وزیر اعظم مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر جین زی نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے میم اور ریل کی بھرمار کر دی۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے بھی بی جے پی کی اس نئی اصطلاح کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔
دراصل، ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح ’اربن نکسل‘ ہی کی طرح ہے، جس کا چند برس قبل پارلیامنٹ میں دیے گئے ایک جواب کے مطابق کوئی باضابطہ وجود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں 11 مارچ 2020 کو اس وقت کے وزیر مملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وزارت داخلہ ’اربن نکسل‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کرتی۔
ممکن ہے کہ مستقبل میں مودی حکومت پارلیامنٹ میں اسی طرح کا جواب دے کہ ’دماغی نکسل‘ نام کی کوئی چیز سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔
اب تک ہم بخوبی جان چکے ہیں کہ آر ایس ایس اس وقت سب سے زیادہ مؤثر انداز میں کام کرتا ہے جب چیزیں سرکاری ریکارڈ میں موجود ہی نہ ہوں! آر ایس ایس کا اپنا ڈھانچہ بھی سینکڑوں چھوٹی چھوٹی تنظیموں پر مشتمل ہے، جن کا کوئی واضح باضابطہ وجود دکھائی نہیں دیتا۔
اس لیے یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ واپسی کے بعد مادھو نے بھی ’دماغی نکسل‘ کی بحث میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ انہوں نے 29 اگست کو ’انڈین ایکسپریس‘ میں ’کیا ہمیں واقعی ’دماغی نکسل‘ کی تعریف کی ضرورت ہے؟‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا۔ آخرکار، چیزوں کی تعریف کیے بغیر بھی ان کا اپنا وجود ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’پی ایم مودی میں اپنے مخالفین کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہے۔‘
رام مادھو کے مطابق، پی ایم مودی کی جانب سے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح کا استعمال ایسی بلی کی مانند ہے جس کی موجودگی نے کبوتروں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بیان، ’میں فخر سے دماغی نکسل ہوں‘، اور ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے اس بیان کا حوالہ دیا، جس میں بعض سینئر صحافیوں کو ’دماغی نکسل‘ قرار دیے جانے کی مخالفت کی گئی تھی۔
مادھو اس کے بعد اس معاملے کو ہلکا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طرح کی ’بحثیں بے ضرر اور تفریحی ہو سکتی ہیں۔‘ انہوں نے مثال کے طور پر ’اربن نکسل‘ اور ’خان مارکیٹ گینگ‘ جیسی پرانی اصطلاحات کا بھی ذکر کیا۔ اتفاق سے، مادھو خود خان مارکیٹ میں اپنے ایک گینگ کے ساتھ باقاعدگی سے نظر آنے کے لیے مشہور رہے ہیں۔
مادھو یہاں بڑی چالاکی سے ایک دلیل پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اس وقت زمین بوس ہو جاتی ہے جب ہم مودی حکومت کے دور میں اختلاف رائے کو غیرمعمولی حد تک جرم قرار دیے جانے کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس بات کے خاطرخواہ شواہد موجود ہیں کہ حکومت نے اپوزیشن رہنماؤں، غیر سرکاری تنظیموں، میڈیا اداروں، کارکنوں اور ان کاروباریوں کے خلاف پولیس اور جانچ ایجنسیوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے جنہوں نے حکومت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔
معلوم ہو کہ ’اربن نکسل‘، ’لُٹینز گینگ‘ اور اب ’دماغی نکسل‘—یہ سب ہندوتوا نواز دائیں بازو کی اس سیاسی اصطلاحات کا حصہ ہیں، جو آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ملک کے ڈسکورس پر حاوی رہنے والے لیفٹسٹ،سینٹر لیفٹ اور نہرویانہ نظریات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
بی جے پی کے سینئر رہنما اور پارٹی کے سابق صدر مرلی منوہر جوشی نے ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ بائیں بازو اور سوشلسٹ اگرچہ انتخابی سیاست میں کمزور ہو جائیں، لیکن معاشرے کی سوچ پر ان کا اثر آسانی سے ختم نہیں ہوگا۔ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ اختلافِ رائے اور متبادل نظریات ہندوستانی معاشرے میں کافی گہرائی تک پیوست ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ملک میں تبدیلی کے لیے چلائی جانے والی کئی بڑی تحریکوں کے پیچھے بھی یہی جذبہ کارفرما رہا ہے۔ وزیراعظم مودی جس طرح کے ’دماغی نکسل‘ نظریے کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں، اسی نظریے سے دیکھا جائے تو لوک نائک جئے پرکاش نارائن کو بھی آج ’دماغی نکسل‘ کہا جا سکتا ہے۔
جے پی نے ایمرجنسی سے پہلے حکومت کے خلاف ایک بڑی تحریک چلائی تھی۔ انہوں نے پولیس اور فوج سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ جابرانہ حکومت کے خلاف کھڑے ہوں۔ آج جمہوری اختلاف رائے کے خلاف جس سطح کی عدم برداشت نظر آ رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے جے پی پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون (یو اے پی اے)، قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) اور بغاوت جیسی دفعات عائد کر دی جاتیں اور انہیں بغیر مقدمہ چلائے جیل میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔
یہ ایک ستم ظریفی ہی ہے کہ آج کی بی جے پی کے کئی رہنما اور وزراء کبھی جے پی کی تحریک سے وابستہ رہے ہیں۔ لیکن گزشتہ ایک دہائی کے دوران وہ اس تاریخ کو بھولتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
مادھو کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنے رہنماؤں کو اپنی نظریاتی حکمت عملی سے دور رہنے کا مشورہ دیں۔ اس حکمتِ عملی کے خاتمے کا اعلان جین زی، جین ایکس اور جین الفا کی اس تحریک نے کر دیا ہے، جو ملک کے مختلف حصوں میں غیر مرکزی انداز میں اب بھی جاری ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں فرقہ واریت اور انتہا پسند قوم پرستی کی سیاسی زبان کا مسلسل استعمال کیا گیا، لیکن اب یہ حکمت عملی پرانی اور تھکی ہوئی محسوس ہونے لگی ہے۔
مادھو کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے بیان نے ممکنہ طور پر اس جابرانہ نظامِ حکومت کے خلاف اختلاف رکھنے والوں کو پریشان کر دیا ہے۔ تاہم، یہ صورتحال کا غلط اندازہ ہے۔ کیونکہ ملک کا نوجوان ’دماغی نکسل‘ کہلائے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اسے اپنانے میں اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔
بی جے پی چاہے تو 16 سے 30 سال کی عمر کے نوجوانوں کے درمیان سروے کروا کے یہ معلوم کر سکتی ہے کہ وہ حقیقت میں کیا سوچتے ہیں۔ آج کا نوجوان اپنے روزگار، تعلیم اور مستقبل کو لے کر فکرمند ہے۔ اس کے سامنے کئی حقیقی مسائل ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس اس ہندوتوا نواز قوم پرستانہ ایجنڈے کے لیے وقت نہیں ہے، جو مبہم انداز میں ’امرت کال‘ اور 2047 کے ’وکست بھارت‘ کا وعدہ کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ رام مادھو نے 2019 میں بی جے پی کی بڑی انتخابی جیت کے بعد خود ’انڈین ایکسپریس‘ میں لکھا تھا کہ ’خان مارکیٹ‘ سے وابستہ لبرل اور نام نہاد سیکولر افراد کا ملک کے فکری اور پالیسی ساز اداروں پر ضرورت سے زیادہ اثر و رسوخ ہے اور مودی حکومت کو انہیں تعلیمی، ثقافتی اور فکری شعبوں سے ہٹا دینا چاہیے۔
کیا اس سوچ میں آج کے ’دماغی نکسل‘ کی جھلک نظر نہیں آتی؟ اب اصل سوال یہ ہے کہ اختلاف رائے کو ختم کرنے کی سیاست آخر کب تک جاری رہے گی۔ گزشتہ کئی برسوں میں معاشرہ اور سیاست اس طرح کی زبان اور تصادم سے تھک چکے ہیں۔ نوجوانوں کا احتجاج اور ان کی بے باکی اسی تھکن اور ناراضگی کی عکاسی کرتی ہے۔
رام مادھو کی بی جے پی میں واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب انہیں اس تبدیلی کو سمجھنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

