سٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعے کو ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ مالیاتی جرائم پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ملک کے فوری ادائیگی کے نظام ’راست‘ کو منی لانڈرنگ کے ذریعے کے طور پر شناخت کیا ہے۔
سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ زیر زمین بینکاری اور حوالہ نیٹ ورکس سے متعلق رپورٹ کے نتائج کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔
یہ وضاحت رواں ہفتے ایف اے ٹی ایف کی ایک رپورٹ جاری ہونے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں دنیا بھر میں پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے لیے زیر زمین بینکاری اور حوالہ نیٹ ورکس کے بڑھتے ہوئے استعمال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان سے جڑی ایک کیس سٹڈی کے سلسلے میں راست نظام کا ذکر کیا گیا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک بیان میں کہا: ’ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ نہ تو راست کو منی لانڈرنگ کے طریقہ کار کے طور پر شناخت کرتی ہے اور نہ ہی راست کے ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کی شفافیت کے حوالے سے کوئی مخصوص تشویش ظاہر کرتی ہے۔
’اس کے برعکس کوئی بھی تاثر رپورٹ کے سیاق و سباق اور نتائج کو غلط انداز میں پیش کرتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
راست پاکستان کا فوری ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ہے، جسے ملکی ادائیگیوں اور رقوم کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے مرکزی بینک چلاتا ہے۔ سٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ نظام فی الحال سرحد پار رقوم کی منتقلی کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔
ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کس طرح زیر زمین بینکاری اور حوالہ نیٹ ورکس باقاعدہ مالیاتی نظام کا حصہ بن سکتے ہیں اور جرائم پیشہ گروہ کس طرح ان کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔
نگراں ادارے نے کہا کہ اسے رپورٹ کرنے والے 80 فیصد سے زیادہ ممالک نے پیشہ ورانہ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے والے اہم ذرائع یا طریقوں میں ایسے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی ہے۔
منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے نظام میں خامیوں پر جون 2018 میں پاکستان کو سخت نگرانی والے ممالک کی ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا۔
اکتوبر 2022 میں 34 نکات پر مشتمل دو ایکشن پلان مکمل کرنے کے بعد اسے اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا، اور نگراں ادارے نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے نظام کو موثر بنانے میں ’نمایاں پیش رفت‘ کا حوالہ دیا تھا۔
سٹیٹ بینک نے کہا کہ وہ پاکستان کے ادائیگی کے نظام کی شفافیت کے تحفظ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق حفاظتی اقدامات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

