صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانیوں کے اہل خانہ نے ہفتے کو کراچی میں ایک بار پھر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اپنے پیاروں کی جلد اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
نشتر پارک میں احتجاج کے دوران یرغمالیوں کے اہل خانہ نے بتایا کہ ان کے پیاروں کو یرغمال بنے ہوئے 136 روز گزر چکے ہیں اور پچھلے کئی ہفتوں سے ان سے رابطہ تک نہیں ہوا، جس کے باعث وہ شدید پریشان ہیں۔
احتجاج میں شریک حمیدہ خاتون نے بتایا ان کا بیٹا عمران علی روزگار کی غرض سے گیا تھا اور اب تقریباً ساڑھے چار ماہ گزر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا ’کبھی کبھار فون آتا ہے لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں حکومت ان 10 پاکستانیوں کو جلد از جلد رہا کروا کر گھروں تک پہنچائے۔‘
حمیدہ خاتون کے مطابق ان کے بیٹے کے تین بچے ہیں، جن میں چھ اور چار سال کی دو بیٹیاں اور ایک کم عمر بچہ شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچے اپنے والد کو بہت یاد کرتے ہیں اور انہیں تسلی دینے کے لیے اہل خانہ کہتے ہیں کہ ’پاپا آ جائیں گے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ان کے والد بچوں کے لیے کھلونے اور چاکلیٹ لایا کرتے تھے، اس لیے بچے انہیں خاص طور پر یاد کرتے ہیں۔
’ڈیڑھ ماہ سے بھائی سے بات نہیں ہوئی‘
ایک اور مغوی رفیع اللہ کے بھائی عبید اللہ نے کہا ’ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ گھر والے اور بچے سب پریشان ہیں۔‘
عبید اللہ نے حکومت اور فوجی قیادت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کے حل کے لیے مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور مغوی پاکستانیوں کو جلد بازیاب کروایا جائے۔
ان کے مطابق ’ہم چاہتے ہیں کہ انصار برنی کو آگے کیا جائے تاکہ وہ مذاکرات کر کے معاملہ حل کریں۔‘
پاکستان نے ان ملاحوں کی رہائی کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں، جو پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 پر سوار تھے۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اگست کے آخری ہفتے میں کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد عالمی بحری قوانین کا پابند ہے لہٰذا صومالی بحری قزاقوں کے پاس یرغمال پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کیا جا سکتا۔
اسحاق ڈار نے برطانیہ میں آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز سے ملاقات کی اور اپریل سے صومالی بحری قزاقوں کی قید میں موجود 10 پاکستانی ملاحوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا پاکستان اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کی ہے۔
’بچوں کو کہتے ہیں پاپا آ جائیں گے‘
عبید اللہ نے بتایا کہ خاندان نے بچوں کو اصل صورت حال سے لاعلم رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
’ہم بچوں کو کبھی کہتے ہیں پاپا تین دن بعد آ جائیں گے، کبھی کہتے ہیں دس دن بعد آ جائیں گے۔ کبھی ان کی پرانی وائس ریکارڈنگ سنا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاپا کی وائس آئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ خاندان گذشتہ کئی ماہ سے اسی طرح بچوں کو تسلی دے رہا ہے۔
’صرف ایک بار والد سے بات ہوئی‘
احتجاج میں شریک معصومہ بتول نے بتایا کہ ان کے والد سید حسین یوسف بھی یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں میں شامل ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا ’میں حکومت سے درخواست کرتی ہوں کہ جلد از جلد انہیں صحیح سلامت واپس لایا جائے کیونکہ ساڑھے چار ماہ سے زیادہ ہونے والے ہیں۔‘
معصومہ بتول کے مطابق ایک مرتبہ ان کا والد سے رابطہ ہوا تھا جبکہ کچھ ویڈیوز بھی موصول ہوئی تھیں۔
’صرف ایک بار بات ہوئی تھی۔ انہوں نے یہی کہا تھا کہ دعا ہی کیجیے کیونکہ وہاں وہ لوگ بہت مشکل میں ہیں۔‘
ان کے مطابق یرغمالیوں کی خوراک اور صاف پانی کے حوالے سے بھی اہل خانہ کو تشویش ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملہ حل کرنے کے لیے مؤثر کوششیں کی جائیں اور یرغمالیوں کو بحفاظت پاکستان واپس لایا جائے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسلام آباد نے صومالی حکومت اور ایم ٹی آنر 25 کے مالک پر زور دیا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کے دوران یرغمالیوں کو خوراک، پینے کا پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے جون میں کہا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ’کچھ مشکل‘ ہے کیونکہ آئل ٹینکر پر دھماکہ خیز مواد لدا ہوا ہے۔

