دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے پاس ستیہ نکیتن میں واقع ایک عمارت اتوار کی دوپہر گر گئی۔ ’ہاسٹل ڈیز‘ کے نام سے جانی جانے والی اس عمارت کو لڑکوں کے لیے پی جی کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور اس میں ساؤتھ کیمپس کے مختلف کالجوں کے طلبہ رہ رہے تھے۔ اپوزیشن نے اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، وہیں حادثے کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن نے پانچ اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے۔
دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے پاس ستیہ نکیتن میں پی جی کے طور پر استعمال ہونے والی کثیر منزلہ عمارت کے گرنے کے بعد امدادی کارروائی میں لگے این ڈی آر ایف کے اہلکار ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: جنوب-مغربی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے پاس 6 ستمبر کو ایک پانچ منزلہ عمارت کےگرنے سے کم از کم سات لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ اس عمارت میں بنیادی طور پر دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے مختلف کالجوں کے طلبہ و طالبات رہ رہے تھے۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اس حادثے میں اب تک سات لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ سوموار کو امدادی کارروائی دوسرے دن بھی جاری رہی اور اب تک مجموعی طور پر 12 لوگوں کو ملبے سے محفوظ نکالا جاچکا ہے۔
خبروں کے مطابق، ملبے سے نکالے گئے لوگوں کو ایمس کے جے پی این ایپکس ٹراما سینٹر لے جایا گیا۔ ان میں سے چار کو اسپتال پہنچنے پر مردہ قرار دے دیا گیا، جبکہ بعد میں مزید تین افراد نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ زخمی لوگوں کا علاج صفدرجنگ اسپتال اور ایمس میں جاری ہے۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ اور طلبہ اب بھی ملبے میں پھنسے ہوسکتے ہیں۔
دہلی پولیس نے عمارت کے گرنے کے معاملے میں ہری رام بنسل اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور عمارت کے مالک کا سراغ لگانے کی کوشش شروع کردی ہے۔ معاملے میں غیر ارادی قتل، عمارت کی دیکھ بھال میں لاپروائی اور دوسروں کی جان و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں۔
خبروں کے مطابق، اس دوران مالک ہری رام بنسل کو راجستھان کے بھیواڑی سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے عمارت کے مالک کی تلاش کے لیے 10 ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ ان کے خلاف لک آؤٹ سرکلر (ایل او سی) بھی جاری کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ ہریانہ کے گڑگاؤں میں بھی بنسل کی ایک رہائش گاہ ہے۔
چند سیکنڈ میں گر گئی عمارت
دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے پاس واقع یہ عمارت اتوار کو دوپہر تقریباً 1:30 بجے گر گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت عمارت کے بیسمنٹ میں مرمت کا کام چل رہا تھا۔ مقامی طور پر ’ہاسٹل ڈیز‘ کے نام سے مشہور اس عمارت کو لڑکوں کے لیے پی جی کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور اس میں ساؤتھ کیمپس کے مختلف کالجوں کے طلبہ رہتے تھے۔
دی ہندو نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیسمنٹ اور پانچ دیگر منزلوں والی یہ عمارت کم از کم 50 سال پرانی ہے۔ حکام کے حوالے سے الگ الگ جانکاری سامنے آئی ہے کہ عمارت کو صرف پہلی منزل تک تعمیر کرنے کی اجازت ملی تھی۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے سوموار کی صبح کہا کہ عمارت کے ملبے کا ’تقریباً 80 فیصد حصہ صاف کیا جاچکا ہے‘ اور اب صرف بیسمنٹ کا ملبہ باقی ہے۔
گپتا نے کہا کہ کھڑی عمارت انتہائی خطرناک دکھائی دے رہی ہے اور ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے کے بعد اسے گرا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، ’ایسی تمام عمارتوں کا اسٹرکچرل آڈٹ کرایا جائے گا اور اس کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایک ایسی پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت پرانی عمارتوں کے مالکان کو پی جی، نرسنگ ہوم، اسکول یا دیگر تجارتی ادارے چلانے سے پہلے اسٹرکچرل آڈٹ رپورٹ جمع کرانی ہوگی اور عمارت کی حفاظت کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ لاپرواہی کے ذمہ دار پائے جانے والے افسران کے خلاف بھی فوری کارروائی کی جائے گی۔‘
دریں اثنا، لیفٹیننٹ گورنر ترن جیت سنگھ سندھو نے عمارت گرنے کے واقعہ کے سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کے ساتھ دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)، میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) اور دہلی پولیس کے سینئر افسران کے شرکت کرنے کی امید ہے۔
پانچ افسران معطل
ستیہ نکیتن عمارت حادثے کے بعد دہلی حکومت نے جنوبی زون کے ایم سی ڈی ڈپٹی کمشنر راکیش کمار، سپرنٹنڈنگ انجینئر رنویر سنگھ، ایگزیکٹو انجینئر للت کمار، اسسٹنٹ انجینئر سنیل چوہان اور ایک جونیئر انجینئر کو معطل کردیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، حکام کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے دہلی کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا،’دیکھیے، سب سے کڑی کارروائی کی گئی ہے۔ پانچ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا عمارت کے ضوابط کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔ اراکین اسمبلی کی ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس میں وزیر اعلیٰ نے انہیں قوانین کی سختی سے پابندی یقینی بنانے کو کہا ہے۔ اسے بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سخت کارروائی کی گئی ہے۔‘
دہلی میونسپل کارپوریشن نے الگ سے چار منزل سے زیادہ اونچی غیر قانونی عمارتوں کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ لاپرواہی کے ذمہ دار پائے جانے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دہلی کے ماحولیات کے وزیر منجندر سنگھ سرسا نے کہا کہ ساتھ والی عمارت کی غیر مستحکم حالت کی وجہ سے امدادی کارروائی کافی مشکل ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساتھ والی عمارت، جو تقریباً چار سے پانچ دہائی پرانی ہے، اسے خالی کرا لیا گیا ہے۔
اپوزیشن نے نشانہ بنایا
کانگریس کے رکنِ پارلیامنٹ پون کھیڑا نے اس واقعہ کو ایسا حادثہ قرار دیا جسے ٹالا جا سکتا تھا اور کارروائی میں تاخیر کا الزام لگایا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا،’بی جے پی کی حکومت ایک قتل کی مشین ہے۔ وہ کل ستیہ نکیتن میں پیش آنے والے اس مکمل طور پر ٹالے جانے والے سانحے کو روکنے میں ناکام رہی۔ اور جب سانحہ پیش آیا تو حکومت کے نام نہاد ابتدائی ردعمل کے دستے-فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور این ڈی آر ایف-کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ گئے۔ اس تاخیر نے وہ قیمتی وقت ضائع کر دیا جو لوگوں کی جان بچانے میں کام آ سکتا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا،’سسٹم پر اس سے بڑی لعنت اور کیا ہو سکتی ہے کہ سرکاری ابتدائی امدادی دستوں سے پہلےبلنک اٹ کی ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ بی جے پی بے حسی، سستی اور مجرمانہ نااہلی کا چہرہ ہے۔ اور اس کی قیمت عام لوگوں کو چکانی پڑتی ہے۔‘
وہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے بھی دہلی یونیورسٹی میں وزیر اعظم کے ایک عوامی پروگرام کے ایک دن بعد پیش آنے والے اس واقعہ پر وزیر اعظم کی جانب سے ردعمل نہ آنے پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا،’صرف دو دن پہلے وزیر اعظم کے لیے دہلی یونیورسٹی کے ایک کالج میں پورے زور و شور سے پی آر مہم چلائی گئی تھی۔ آج ڈی یو کے طلبہ مر گئے، کچھ شدید زخمی ہیں اور ستیہ نکیتن کے اس خوفناک واقعہ کے ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔ اور وزیر اعظم کی جانب سے ایک بھی لفظ نہیں۔‘
وہیں، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اتوار کو وزیر اعظم نریندر مودی سے تعلیمی بنیادی ڈھانچے اور طلبہ کی سلامتی کی صورتحال پر سوال اٹھایا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا،’مودی نے ایک دن پہلے ہی دہلی یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا اور ایک سیاسی تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، لیکن ملک میں تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی حالت کے بارے میں انہوں نے کچھ خاص نہیں کہا۔‘
دیپکے نے عمارت گرنے کے واقعہ کے حوالے سے سوال کیا،’آخر بنیادی ڈھانچے کی ناکامی کی قیمت طلبہ کو کب تک چکانی پڑے گی؟‘
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دیکھ بھال اور تعاون کی کمی کے باعث طلبہ مر رہے ہیں، جبکہ راجدھانی میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی سلامتی سے متعلق خدشات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا،’قبائلی علاقوں میں دیکھ بھال اور تعاون کی کمی کے باعث قبائلی طلبہ مر رہے ہیں، اور یہاں تک کہ دارالحکومت میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی محفوظ نہیں ہیں۔‘ انہوں نے طلبہ کے لیے محفوظ کلاس روم، محفوظ ہاسٹل اور بنیادی احترام کا مطالبہ کیا۔
دیپکے نے سوال کیا، ’کیا یہ مطالبہ بہت زیادہ ہے؟‘ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا وزیر اعظم دوبارہ ڈی یو آئیں گے اور بتائیں گے کہ عمارت کیسے گری۔
وہیں، راجیہ سبھا کے ایم پی منوج کمار جھا نے اس واقعہ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حادثے کا بار بار ہونا وسیع پیمانے پر بدعنوانی، ملی بھگت، لاپروائی سے کیے جانے والے معائنے اور عوامی جوابدہی کے نظام کو کمزور کیے جانے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
انہوں نے لکھا،’لہٰذا میں مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ دہلی یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے سرکاری ہاسٹل تعمیر کرنے کی خاطر ہنگامی اور خصوصی طور پر مختص مالی وسائل کا اعلان کیا جائے۔ اسے ایک مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جانے والے طلبہ رہائش پروگرام کا حصہ بنایا جانا چاہیے، جس میں نارتھ اور ساؤتھ کیمپس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے جغرافیائی طور پر مختلف مقامات پر واقع کالجوں کو بھی شامل کیا جائے۔ ‘

