برطانوی کار ساز کمپنی جیگوار لینڈ روور 4 ہزار ملازمین فارغ کرنے فیصلہ24 نیوز

news 1788791732 3575



news 1788791732 3575

(24 نیوز)برطانوی کار ساز کمپنی جیگوار لینڈ روور نے 2028 تک تقریباً 4 ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق ملازمتوں میں کمی سے زیادہ تر برطانیہ میں واقع جیگوار لینڈ روور کے مرکزی دفاتر کے ملازمین متاثر ہوں گے، جبکہ اس اقدام سے آئندہ 2 برس کے دوران تقریباً ایک ارب 70 کروڑ پاؤنڈ کی بچت متوقع ہے۔

جیگوار لینڈ روور کے دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 43 ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔ کمپنی نے ابتدائی طور پر رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش کی ہے، جس کے لیے درخواستیں 4 اکتوبر تک جمع کرائی جاسکیں گی۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اگر مطلوبہ تعداد میں ملازمین رضاکارانہ طور پر ملازمت نہیں چھوڑتے تو جبری برطرفیوں کا مرحلہ بھی آسکتا ہے، جس صورت میں متاثرہ ملازمین کو نسبتاً کم مراعات دی جائیں گی۔

کمپنی کے سربراہ پی بی بالاجی نے کہا کہ جیگوار لینڈ روور ملازمتوں میں کمی کے عمل کے دوران تمام ملازمین کی دیکھ بھال، انصاف اور احترام کے ساتھ معاونت کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی صنعت کو ٹیکنالوجی میں تبدیلی، شدید مسابقت اور مسلسل جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال سمیت اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔

جیگوار لینڈ روور کے لیے حالیہ عرصہ خاصا مشکل رہا ہے۔ گزشتہ برس ہونے والے ایک سائبر حملے کے باعث کمپنی کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک پیداوار بند کرنا پڑی، جس سے اس کے مالی مسائل میں مزید اضافہ ہوا۔

کمپنی کو چینی کار ساز اداروں سے بڑھتی ہوئی مسابقت اور امریکی محصولات کے اثرات کا بھی سامنا ہے۔ جیگوار لینڈ روور کی امریکا میں کوئی پیداواری فیکٹری نہیں، جس کے باعث اسے تجارتی محصولات کے اضافی دباؤ کا سامنا ہے۔

کمپنی نے بتایا کہ مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران اس کی فروخت تقریباً 5ویں حصے تک کم ہوکر 22 ارب 90 کروڑ پاؤنڈ رہ گئی، جو 2 سال قبل 29 ارب پاؤنڈ تھی۔ کمپنی نے فروخت میں کمی کی بڑی وجوہات میں امریکی محصولات اور سائبر حملے کو قرار دیا۔

جیگوار لینڈ روور کو برقی گاڑیوں کی جانب منتقلی پر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے حریفوں کے مقابلے میں برقی گاڑیوں کے نئے ماڈل متعارف کرانے میں سست رہی ہے۔

برطانوی حکومت نے متاثرہ ملازمین کی معاونت کا اعلان کیا ہے تاہم کمپنی کو مالی امداد دینے کا امکان مسترد کردیا ہے، جبکہ مزدور تنظیموں نے مغربی مڈلینڈز میں ملازمتوں اور مقامی آبادیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پشاور: پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے 11 طلبہ و طالبات گرفتار





Source link

متعلقہ پوسٹ