پائپ لائن حملے کے بعد سعودی عرب کا ہرمز سے تیل برآمدات بڑھانے پر غور

strait of hormuz1775073352 0


ریاض: سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر حملے اور اس کی عارضی بندش کے بعد آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی برآمدات بڑھانے کی کوشش شروع کردی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق معاملے سے باخبر ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب نے رواں ماہ کے ابتدائی 10 دنوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں اگست کے مقابلے میں پہلے ہی اضافہ کیا تھا اور اب اسے مزید بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سعودی عرب ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن استعمال کررہا تھا، تاہم ڈرون حملے کے بعد پائپ لائن کو بند کردیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق یہ پائپ لائن روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کی بندش سے عالمی تیل سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق ستمبر کے آغاز میں سعودی آرامکو کی مجموعی خام تیل برآمدات تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھیں، جن میں تقریباً 10 لاکھ بیرل روزانہ آبنائے ہرمز کے راستے جبکہ باقی مقدار بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع کے ذریعے برآمد کی جارہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایک درجن سے زائد سعودی آئل ٹینکرز حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز کے باہر انتظار کرتے بھی دیکھے گئے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ سعودی عرب پائپ لائن کی بندش سے ہونے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے ہرمز کے راستے تیل کی برآمدات کتنی اور کتنی تیزی سے بڑھا سکتا ہے۔

ٹینکرز کی کمی، بلند شپنگ اخراجات اور آبنائے ہرمز میں محدود بحری آمدورفت نے سعودی تیل کی ترسیل کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد معمول سے نمایاں کم رہی ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ