وزیر اعظم کی سالگرہ پر مودی اور شاہ کا پتلا نذر آتش کرنے پر 21 کسانوں کے خلاف ایف آئی آر، بی جے پی ایم ایل اے کے بھائی کا احتجاج

Modi Morbi 1


بائیں سے – وزیر اعظم نریندر مودی، درمیان میں مودی-شاہ کا پتلا نذر آتش کرتے کسان، اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ۔ (مودی اور شاہ کی تصویریں ان کے انسٹاگرام پروفائل سے لی گئی ہیں۔)

وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر گجرات کے موربی میں ان کے اور امت شاہ کے پتلے نذر آتش کرنے کے معاملے میں 21 کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ کسان اڈانی گروپ سے وابستہ بجلی ٹرانسمیشن لائن کے خلاف چار مہینے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ زیادہ معاوضے اورکھیتی کی زمین کے تحفظ کا ہے۔


نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ (17 ستمبر) کے موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ملک بھر میں کئی پروگراموں کے ذریعے جشن منا رہی تھی۔ بی جے پی مقتدرہ  ریاستوں کی حکومتیں بھی ان تقریبات میں شامل تھیں۔ اس دوران سرکاری سطح پر بھی پروگرام منعقد کیے گئے، جن میں ٹیکس دہندگان کے پیسے سے ’آشیرواد کا دیا‘ جلایا گیا۔

تاہم، اسی رات گجرات کے موربی ضلع کے جیت پور گاؤں میں کسانوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے پتلے نذر آتش کرکے احتجاج کیا۔ کسان ریاست کی بی جے پی حکومت اور صنعتکار گوتم اڈانی سے وابستہ بجلی کے منصوبے کی  چار مہینے سے مخالفت کر رہے ہیں۔

پتلا نذر آتش کرنے کے اس واقعہ کے بعد موربی تھانے میں 21 کسانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت موربی تھانے کے انسپکٹر نےہی درج کرائی ہے۔

شکایت کے مطابق، ملزمین نے مبینہ طور پر ایک منصوبہ بند سازش کے تحت عوامی سڑک پر آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگائی، جس سے دہشت کا ماحول پیدا ہوا۔ شکایت میں ان پر عوامی امن و امان میں خلل ڈالنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے کسانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے اگرچہ 21 کسانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، لیکن تحریک میں شامل 21 ہزار کسان بھی جیل جانے کے لیے تیار ہیں۔’یہ ایف آئی آر احتجاج کرنے کے ہمارے آئینی حق کے خلاف ہے۔‘

واضح ہو کہ کسانوں کی اس تحریک کو گجرات حکومت میں لیبر، اسکل ڈیولپمنٹ اور روزگار کے وزیر مملکت اور موربی سے بی جے پی کے ایم ایل اے کانتی بھائی امرتیا کے بھائیوں( کارا بھائی امرتیا اور بھرت بھائی امرتیا) کی حمایت بھی حاصل ہے۔دی وائرسے بات چیت میں کارا بھائی امرتیا نے موربی پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کو کسانوں کو پریشان کرنے کا طریقہ بتایا۔

انہوں نے کسان تحریک کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا،’میں کسانوں کے ساتھ ہوں۔ اس ایف آئی آر کے بعد ہماری تحریک تیز ہو گئی ہے۔ پولیس گرفتاری کی تیاری میں تھی، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے دس ہزار کسان جمع ہوگئے اور انتظامیہ کوئی کارروائی نہیں کر سکی۔ ‘

پچھلے مہینے بھی کارا بھائی امرتیا نے کسانوں کی ایک میٹنگ میں شرکت کرکے حکومت اور کمپنی کو خبردار کیا تھا۔ جولائی میں وزیر کے دونوں بھائی، کارا بھائی امرتیا اور بھرت بھائی امرتیا، کسانوں کے ساتھ دھرنے پر بھی بیٹھے تھے۔ اس دوران کارا بھائی امرتیا نے 19 دن تک بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر جیت پور کا یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب بجلی  ٹرانسمیشن لائن اور ٹاوروں کے خلاف کسانوں کی تحریک گجرات کے دوسرے علاقوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔ موربی ضلع کے کسانوں کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے سے وہ ’سب سے زیادہ متاثر‘ہو رہے ہیں۔

جیت پور اور اس کے آس پاس کے تقریباً 35 گاؤں کے کسان جون سے ہی اپنی کھیتی کی زمین سے گزرنے والی ہائی وولٹیج بجلی  ٹرانسمیشن لائن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ جولائی میں کسانوں نے 19 دن کی  بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

ہائی ٹینشن بجلی ٹرانسمیشن لائنوں کے لیے ٹاور لگانے کا کام ہلواد ٹرانسمیشن لمیٹڈ کر رہی ہے۔ یہ اڈانی انرجی سالیوشنز لمیٹڈ(اے ای ایس ایل)کی ایک اسپیشل پرپز وہیکل(ایس پی وی)کمپنی ہے۔اے ای ایس ایل ملک کی سب سے بڑی نجی سیکٹر کی بجلی ٹرانسمیشن اور تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

موربی کے کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی زمین پر بچھائی جا  رہی ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنوں کے استعمال کے بدلے انہیں زیادہ معاوضہ دیا جائے۔

جولائی میں گجرات حکومت نے کسانوں کے مطالبات کے حوالے سے کچھ تبدیلیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔ حکومت نے معاوضے کے لیے پرانے جنتری ریٹ، یعنی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم قیمت، کے بجائے مارکیٹ ویلیو کو بنیاد بنانے اور اس کے مطابق ادائیگی کا نیا طریقہ تجویز کیا تھا۔تاہم، کسانوں کے تمام مطالبات پورے نہیں ہوئے تھے اور احتجاج جاری رہا۔

پولیس اہلکار نےکی شکایت ، پھر ہوئی  ایف آئی آر

سترہ تاریخ کو ہوئے احتجاج کی شکایت کسی سیاسی جماعت کے کارکن یا عام شہری نے نہیں، بلکہ موربی تعلقہ تھانے کے پولیس انسپکٹر نیلیش بھائی ساوجی بھائی گھیتیا نے درج کرائی ہے۔18 ستمبر 2026 کو شام 5:15 بجے موربی تعلقہ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق، 17 ستمبر 2026 کی رات گھیتیا پرانے آر ٹی او روڈ پر گشت کر رہے تھے۔ اسی دوران تقریباً رات 10:56 بجے انہیں وہاٹس ایپ کے ذریعے ایک ویڈیو موصول ہوا۔پولیس کے مطابق، ویڈیو میں کچھ لوگ ایک جگہ جمع ہوکر وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دو پتلے جلاتے اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ 17 ستمبر 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے خلاف جیت پور گاؤں میں احتجاج کیا گیا۔

تاہم، احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج وزیر اعظم کی سالگرہ کے خلاف نہیں تھا، بلکہ بجلی لائن کے معاوضے کے معاملے میں حکومت کی مبینہ عدم توجہی کے خلاف تھا۔

ایف آئی آر میں 21 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے؛

نیہل دھیرج لال امرتیا

ہرشد چتربھائی اگھارا

راجو بھائی بھدر کنڈیا (پاو بھاجی)

دیپک ناتھا بھائی جھاکاسنیا

لال جی گھنشیام جھاکاسنیا

للت عرف بھوٹیا چیکو بھائی اگھارا

کوکا بھائی بچو بھائی کنڈیا

امت بچو بھائی کنڈیا

نریش بچو بھائی اگھارا

نند لال پربھو بھائی امرتیا

گووند دھرم شی بھائی امرتیا

چتر چھگن اگھارا

لابھو بھائی امرشی بھائی ورسڑا

ہیرین چندو بھائی اگھارا

وپل مگن بھائی کنڈیا

خوشانگی بین راجیش بھائی اگھارا

درشنابین عرف گڈی بین ہرشد بھائی اگھارا

متل بین وپل بھائی کنڈیا

جیوتی بین نکیت بھائی پنچاسر

نیرو بھا پرمود سنگھ جڈیجہ

ہیر جی بھائی دیوجی بھائی دیتروج

ایف آئی آر میں زیادہ تر ملزمین کا پتہ جیت پور، تعلقہ موربی، ضلع موربی درج ہے۔ 20ویں اور 21ویں ملزم کے پتے کمبھاریہ گاؤں، تعلقہ مالیا (میانا)، ضلع موربی درج ہیں۔

ایف آئی آر میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)، 2023 کی آٹھ دفعات لگائی گئی ہیں۔ ان میں دفعہ 61(2) مجرمانہ سازش، دفعہ 126(2)غلط طریقے سے راستہ روکنے، دفعہ 189(2) غیر قانونی اجتماع کا رکن ہونے، 192فساد کرانے کے ارادے سے اشتعال دلانے، اور 223سرکاری ملازم کی جانب سے قانونی طور پر جاری کیے گئے حکم کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔

اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ ایف آئی آر میں موربی کے ضلع مجسٹریٹ کے 31 اگست 2026 کے عوامی حکم/نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایاگیا ہے۔ اس حکم کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں دی گئی ہے، تاہم دی وائر نے اس بابت میں ایس پی سے سوال کیا ہے، جس کا جواب خبر کی اشاعت تک موصول نہیں ہواہے۔

اس کے علاوہ بی این ایس کی دفعہ 285عوامی راستے میں خطرہ یا رکاوٹ پیدا کرنے، دفعہ 287آگ یا آتش گیر مادے کے سلسلے میں لاپروائی، اور دفعہ 352امن و امان میں خلل ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر توہین اور اشتعال انگیزی سے متعلق ہے۔

میں تو احتجاج میں تھا ہی نہیں

ایف آئی آر میں نامزد لوگوں میں سے ایک کسان رہنما ہیرین چندو بھائی اگھارا نے دی وائر سے بات چیت میں  دعویٰ کیا کہ وہ 17 ستمبر کی رات ہوئے پتلاجلانے کے واقعہ میں شامل نہیں تھے، اس کے باوجود ان کا نام ایف آئی آر میں درج کر لیا گیا۔’میں ادھر تھا ہی نہیں۔ لیکن پھر بھی میں کہوں گا کہ احتجاج کرنا سب کا آئینی حق ہے، ‘وہ کہتے ہیں۔

یہی بات کسانوں کی تحریک کی قیادت کر رہے نیہل امرتیا نے بھی دہرائی،’ایف آئی آر میں جن 21 لوگوں کے نام لکھے گئے ہیں، وہ لوگ تو وہاں تھے بھی نہیں۔ پھر بھی ان کے نام درج کر دیے گئے۔ یہ ایف آئی آر پوری طرح غلط ہے۔ گجرات کے کسان اس کا جواب دیں گے۔ ہم اس لڑائی کو سپریم کورٹ تک لڑیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’پولیس خود ہی فریادی بن کر ایف آئی آر درج کر رہی ہے۔ یہ سیاسی لوگوں کے دباؤ میں درج کی گئی ایف آئی آر ہے۔ سیاسی لوگوں کے پتلے کوئی پہلی بار تو نہیں جلائے گئے ہیں، پہلے بھی کئی لوگوں کے پتلے جلائے جاتے رہے ہیں۔ ‘

کارا بھائی امرتیا نے بھی اپنے اوپر دباؤ ہونے کی بات کہی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اپنے بھائی کانتی بھائی امرتیا کی حمایت حاصل نہیں ہے، تو انہوں نے کہا،’حمایت ملتی ہے۔ میں انہیں کسانوں کی تحریک میں لے کر بھی گیا تھا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرے بھائی کی بھی نہیں سنی جا رہی ہے۔ اسی لیے میں سامنے آیا ہوں۔‘

انہوں نے کہا،’سب  کے اوپر دباؤ ہے۔ کسی کی نہیں سنی جا رہی۔ میرے اوپر بھی دباؤ ہے۔ اور زیادہ دباؤ بنانے کے لیے چھاپے مارے جاتے ہیں۔ خود میرے اوپر بجلی محکمے، جی ایس ٹی وغیرہ کے پانچ چھ چھاپے پڑ چکے ہیں۔‘

بجلی کی لائن کچھ کے رن سے لے جائیں، کھیتی کی  زمین سے کیوں لے جا رہے ہیں؟

کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ بجلی کی لائن کے لیے زیادہ معاوضے کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ان کے کھیتوں کے آگے پیچھے بجلی کے کھمبے پہلے ہی لگائے جا چکے ہیں۔ تاہم، وہ اس کے علاوہ اپنے کھیتوں سے کسی اور بجلی لائن کے گزرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی لڑائی اپنی زمین بچانے کی ہے۔

ایک کسان نے کہا،’دھندہ آج ہے، کل نہیں ہے۔ کوئی بڑا کاروباری چھوٹے کاروباری کے دھندے پر قبضہ کر سکتا ہے اور چھوٹا کاروبار کل بند بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن کھیتی رہے گی تو ہم اس سے کبھی بھی کما کر کھا سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ تار لگنے کی وجہ سے کھیت کی قیمت بھی گر جاتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’معاوضے کا معاملہ تو ہے ہی، لیکن جان کا بھی خطرہ ہے۔ اگر بجلی کے کھمبے سے تار ٹوٹ کر کھیت میں گر جائے تو وہاں کام کرنے والے کسان کی موت ہو سکتی ہے۔ اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ انشورنس کی بات کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اتنی بڑی بجلی کی لائن جا رہی ہے۔ اگر اڈانی کی کمپنی لائن بچھا رہی ہے تو کیا اس کی ذمہ داری نہیں بنتی؟‘

کسان رہنما ہیرین چندوبھائی اگھارا بتاتے ہیں، ’یہ سب کچھ ضلع کے کھاوڑا رینیوایبل انرجی زون سے مہاراشٹر تک بجلی پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہم تو کہہ رہے ہیں کہ حکومت مہاراشٹر میں ہی پلانٹ لگا دے۔ اگر بجلی کی لائن لے جانی ہے تو کچھ کے رن کی طرف سے لے جائیں، کھیتی کی  زمین سے کیوں لے جا رہے ہیں؟‘

انہوں نے کہا،’لیکن ہمیں پتہ چلا ہے کہ ایسا کیوں نہیں کیا جا رہا۔ سرکاری افسران نے بتایا کہ رن کی زمین ہموار نہیں ہے، لیول میں نہیں ہے اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ جبکہ کھیتی  کی زمین کی دیکھ بھال کسان کرتے ہیں۔ ایسے میں بجلی کمپنی کو مفت میں زمین کی دیکھ بھال کی سہولت بھی مل جائے گی۔‘

اگھارا نے کہا،’ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک حکومت ہماری پوری مانگ نہیں مان لیتی۔‘

بی جے پی ایم ایل اے کانتی بھائی امرتیا کے بھائی کارا بھائی امرتیا نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا،’میں کسانوں کے ساتھ ہوں۔ یہ میرا گاؤں ہے۔ پانچ بیگھہ کے کھیت میں پاور پروجیکٹ کے تین تین کھمبے آ رہے ہیں۔ ایسے میں کسان کھیتی کہاں کریں گے؟ مزدور اب کھیت میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ انہیں کرنٹ لگنے کا ڈر رہتا ہے۔ اگر تار ٹوٹ گیا اور کسی کو کچھ ہو گیا تو اس کا انشورنس کون دے گا؟‘

انہوں نے کہا،’اگر ہمارے بچے پاور پروجیکٹ میں کام کرنے جاتے ہیں تو کتنا پیسہ ملے گا-دس ہزار، پندرہ ہزار؟ اس سے کیا ہوگا؟ اس سے تو ہمارا گھر بھی نہیں چل پاتا۔ گیس کی قیمت ہی اتنی بڑھ گئی ہے۔ اس لیے تحریک تو کرنی ہی پڑے گی۔‘

کسانوں کا مطالبہ کیا ہے؟

کسان رہنما ہیرین چندو بھائی اگھارا نے دی وائرکے ساتھ اپنے مطالبات کا مسودہ شیئر کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرانسمیشن لائن اور ٹاوروں کے لیے زمین کے استعمال کے معاملے میں کسانوں نے حکومت کے سامنے معاوضے کا ایک تفصیلی متبادل طریقہ پیش کیا ہے۔

بتادیں کہ29جولائی 2026 کو دی گئی درخواست میں گجرات کسان چھاونی، جیت پور (مچھو) نے انرجی اور پیٹرو کیمیکلز محکمہ کے 4 جولائی 2026 کے حکم میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔اس میں زمین، فصل اور درختوں کو ہونے والے نقصان کے لیے الگ الگ اور زیادہ جامع معاوضے کی تجویز دی گئی ہے۔

کسانوں نے ٹاور بیس اور ٹرانسمیشن لائن کے رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو)کوریڈور کے لیے الگ الگ معاوضے کی تجویز دی ہے۔ٹاور بیس کے لیے زمین کی مارکیٹ ویلیو کو بنیاد بناتے ہوئے 400فیصد تک معاوضے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں ٹاور کے چاروں پیروں سے گھرے حقیقی رقبے کے علاوہ ہر طرف ایک میٹر اضافی رقبہ کوبھی حساب میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وہیں، آر او ڈبلیو کوریڈور کے لیے دیہی اور شہری علاقوں میں زمین کی مارکیٹ ویلیو کا 260فیصد تک معاوضہ دینے کی تجویز رکھی گئی ہے۔

کسانوں نے زمین کی قیمت کے علاوہ فصلوں اور درختوں کو ہونے والے نقصان کا الگ سے معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔زمین کی مارکیٹ ویلیو طے کرنے کے لیے ہر ضلع میں مارکیٹ ریٹ کمیٹی (ایم آر سی) بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ معاوضے کی ادائیگی کام شروع ہونے سے پہلے کی جانی چاہیے۔

تجویز میں ٹرانسمیشن لائن لگائے جانے کے بعد ہونے والے نقصان کو بھی معاوضے کے دائرے میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مستقبل میں فصل، درخت یا کسی بھی دوسرے قسم کا نقصان یا حادثہ ہونے کی صورت میں اس کی ذمہ داری ٹرانسمیشن کمپنی کی ہو اور متاثرہ شخص کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ کسانوں نے ٹرانسمیشن کمپنیوں سے حادثات اور طبی اخراجات کے لیے انشورنس کا بندوبست کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

کسانوں نے ٹرانسمیشن لائن کا راستہ طے کرتے وقت سرکاری یاچراگاہ کی زمین کو ترجیح دینے اور نجی زمین کے استعمال کو ممکنہ حد تک کم کرنے کی تجویز دی ہے۔تجویز میں ٹرانسمیشن لائن کے لیے زمین کے استعمال کی مدت 25 سال رکھنے کی بات  کہی گئی ہے۔مدت پوری ہونے کے بعد لائن اور اس سے متعلق ڈھانچے کو ہٹانے کی ذمہ داری کمپنی کی ہو۔اسے ہٹانے کے دوران اگر کسان کو کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کی تلافی بھی کمپنی کرے۔

دستاویز میں متاثرہ زمین کے مالکان کو پہلے سے عوامی اطلاع دینے، اعتراضات درج کرانے کا موقع دینے اور معاوضے کے عمل کو شفاف رکھنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اس طرح کسانوں کا اعتراض صرف معاوضے کی رقم تک محدود نہیں ہے۔ ان کی تجویز میں زمین کی مارکیٹ ویلیو طے کرنے،آر و ڈبلیوکوریڈور کے سائز، فصل اور درختوں کو ہونے والے نقصان، ادائیگی کے وقت، آزادانہ تشخیص، مستقبل میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری اور 25 سال بعد لائن ہٹانے تک کے انتظام کو شامل کیا گیا ہے۔

کسانوں کی تحریک کا اثر!

ریاست کے سینئر صحافی دلیپ پٹیل کا ماننا ہے کہ کسانوں کی تحریک کا اثر اب زمینی سطح پر بھی نظر آنے لگا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ حال میں ہوئے موربی اے پی ایم سی (ایگریکلچرل پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی) انتخابات میں بی جے پی حمایت یافتہ پینل کی تقریباً تین دہائیوں سے چلی آ رہی یکطرفہ بالادستی ختم ہو گئی ہے۔ اس بار بی جے پی حمایت یافتہ پینل کے زیادہ تر ارکان ہار گئے ہیں۔ پٹیل کے مطابق، پہلے اے پی ایم سی انتخابات میں تقریباً تمام ارکان بی جے پی حمایت یافتہ پینل سے ہی جیتتے رہے ہیں۔

پٹیل تحریک کے دوسرے اشارے کے طور پر مقامی بی جے پی ایم ایل اے اور وزیر کانتی بھائی امرتیا کے بھائیوں کے رول کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ان کے مطابق، وزیر کے بھائی کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور تقریباً ہر عوامی میٹنگ میں موجود رہتے ہیں۔

پٹیل کہتے ہیں کہ موربی طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ رہا ہے، لیکن کسانوں کی تحریک کے درمیان پارٹی کے روایتی حامیوں کے رویے میں تبدیلی کے اشارے دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب گجرات کانگریس نے کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے دی وائر  سے کہا،’جیت پور میں کسانوں کی جانب سے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کے پتلے جلانے کا واقعہ محض ایک علامتی احتجاج نہیں ہے؛ یہ طویل عرصے سے جاری کسانوں کی ناراضگی اور حکومت کے تئیں پیدا ہونے والے عدم اعتماد کا ایک بڑا اشارہ ہے۔‘

کسانوں کی ناراضگی پر ایم ایل اے اور وزیر کانتی لال امرتیا اور ریاستی بی جے پی کے ترجمان انل بھائی پٹیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔وہیں، ایف آئی آر سے متعلق سوالوں پر موربی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مکیش کمار پٹیل کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ جواب ملنے پر رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ