کیرالہ حکومت نے گیانیش کمار کے خلاف 20 سال پرانے بدعنوانی کے معاملے میں جانچ کے آرڈر دیے

Gyanesh Kumar Ramesh Chennithala


گیانیش کمار (بائیں) اور کیرالہ کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

کیرالہ حکومت نے موجودہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف 20 سال پرانے بدعنوانی کے الزامات کی ابتدائی جانچ کے حکم دیے ہیں۔ یہ معاملہ ایک سڑک کے منصوبے سے متعلق ہے۔ اس وقت کمار محکمہ تعمیرات عامہ کے سکریٹری تھے۔ پروجیکٹ کے چیف انجینئر لی سی بین نے 2006 میں خودکشی کر لی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کی موت کا تعلق اس پروجیکٹ اور اس میں موجود بدعنوانی سے تھا۔

نئی دہلی:کانگریس کی قیادت والی کیرالہ کی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ(یو ڈی ایف)حکومت نے موجودہ چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی)گیانیش کمار کے خلاف 20 سال پرانے بدعنوانی کے الزامات کی ابتدائی جانچ کے حکم دیے ہیں۔

دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس وقت کمار محکمہ تعمیرات عامہ(پی ڈبلیو ڈی)کے سکریٹری تھے۔ کمار انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس(آئی اے ایس)کے کیرالہ کیڈر کے افسر ہیں۔

ان الزامات کے دوبارہ سامنے آنے کے بعد کمار ایک ایسے پرانے تنازعہ کی زد میں آ گئے ہیں، جو طویل عرصے سےٹھنڈے بستے میں تھا۔

کیرالہ کی وزارت داخلہ نے ریاست کے محکمہ انسداد بدعنوانی اور نگرانی کے سربراہ کو PATI-BEL کنسورشیم کمپنی کے رول کی بھی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہندوستان اور ملیشیا کی ایک تعمیراتی کمپنی تھی، جسے ریاست کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت انگمالی سے ترواننت پورم تک جانے والی مین سینٹرل روڈ کی بہتری کا کام سونپا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ ’غیر معمولی تاخیر اور لاگت سے متعلق جانچ‘ کے دائرے میں رہا۔ اس وقت بھی ریاست میں یو ڈی ایف کی حکومت تھی۔ منصوبے کے چیف انجینئر لی سی بین نے 2006 میں خودکشی کر لی تھی۔ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کی موت کا تعلق اس منصوبے اور اس میں ہونے والی بدعنوانی سے تھا۔

چیف انجینئر کی موت کے بعد کرائی گئی ایک نگرانی و انسداد بدعنوانی کی جانچ کے نتیجے میں کمار کو سکریٹری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

کیرالہ میں اپنی مدت کارمکمل کرنے کے بعد لی سی بین کوالالمپور واپس چلے گئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے دو خط لکھے تھے، ایک اپنی اہلیہ کے نام اور دوسرا اپنی کمپنی کے نام۔ دونوں خطوط میں بین نے کیرالہ میں سرکاری افسران اور دیگر لوگوں کی جانب سے اپنے ساتھ پیش آنے والے ’تلخ تجربات‘ کا ذکر کیا تھا۔

نومبر 2006 میں ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، بین کے سوسائیڈ نوٹ میں کمار کا نام بھی لکھا گیا تھا۔

کیرالہ کے وزیر داخلہ رمیش چنیتھلا نے کہا،’نگرانی کے محکمے نے سوسائیڈ نوٹ میں بتائے گئے تمام تفصیلات کی بھی جانچ کی تھی۔ بعد میں یہ جانچ اچانک روک دی گئی۔ مجھے لگا کہ وینوگوپال کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر تفصیلی جانچ ضروری ہے۔ وزیر اعلیٰ سے بات کرنے کے بعد میں نے نگرانی کے ڈائریکٹر منوج ابراہم کو تفصیلی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔‘

بتادیں کہ مذکورہ منصوبہ اپریل 2003 میں شروع ہوا تھا اور اسے تین سال میں مکمل کیا جانا تھا۔ اس کی آخری تاریخ اگست 2006 مقرر کی گئی تھی۔ تاہم اس مدت کے دوران منصوبے کا صرف 30 فیصد کام ہی مکمل ہو سکا تھا۔

کمار کے خلاف یہ جانچ دوبارہ ایسے وقت میں کھل رہی ہے، جب وہ پہلے سے ہی اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

(اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں- دوست یا رشتہ دار-جو ذہنی طور پر پریشان ہیں اور خودکشی کا خطرہ ہے، تو براہ کرم ان سے رابطہ کریں۔ سوسائیڈ پریوینشن انڈیا فاؤنڈیشن کے پاس ایسے فون نمبروں کی ایک  فہرست ہے جہاں وہ  رازداری کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے زیر انتظام مشاورتی سروس آئی کال نے ملک بھر کے ڈاکٹروں اور تھراپسٹ کی ایک کراؤڈ سورسڈفہرست بھی تیار کی ہے۔ آپ انہیں نزدیکی اسپتال بھی لے جا سکتے ہیں۔)



Source link

متعلقہ پوسٹ