غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز

albanese 81026 d


استنبول: فلسطینی علاقوں کے لئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے 3 سال مکمل ہونے کے باوجود "نسل کشی ختم نہیں ہوئی”۔ اناطولیہ نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ زمینی صورتحال "تباہ کن” ہے اور فلسطینیوں کو محض نسل کشی سے "بچ جانے والے” کہنا درست نہیں، کیونکہ تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔
البانیز کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ کا تقریباً 70 فیصد علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے، جہاں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو منہدم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ "زندہ بچ جانے والے” کہنے سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی حالات بگڑ رہے ہیں اور انہوں نے آبادکاری، بے دخلی اور فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی کنٹرول میں اضافے کو وسیع تر مسئلے کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال محض سفارتی مذمت سے حل نہیں ہو سکتی اور عالمی برادری کو اس سے آگے بڑھ کر کارروائی کرنی ہو گی۔ انہوں نے اسرائیل کی حمایت کرنے والی حکومتوں کی پالیسیوں اور یورپی ممالک کے امریکہ پر انحصار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کو سیاسی مفادات کے تابع نہیں ہونا چاہئے۔
پس منظر: مارچ 2024ء کی رپورٹ "اناٹومی آف اے جینوسائیڈ” میں البانیز نے کہا تھا کہ یہ یقین کرنے کی معقول وجوہ ہیں کہ غزہ میں اسرائیلی اقدامات نسل کشی کی حد پوری کرتے ہیں۔ مارچ 2026ء میں انہوں نے انسانی حقوق کونسل میں "ٹارچر اینڈ جینوسائیڈ” کے عنوان سے ایک اور رپورٹ پیش کی۔ جون 2026ء میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے کہا تھا کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ نشانہ بنائے جانے سے نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا۔ ستمبر 2026ء میں البانیز نے ملبہ ہٹانے کے عمل پر تشویش ظاہر کی تھی کہ اس سے شواہد ضائع نہیں ہونے چاہئیں؛ فلسطینی حکام کے اندازے کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ افراد اب بھی ملبے تلے ہو سکتے ہیں۔
اعداد و شمار: فلسطینی اعداد و شمار کے حوالے سے اناطولیہ کے مطابق اکتوبر 2023ء سے اب تک غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ 10 اکتوبر 2025ء کی جنگ بندی کے بعد بھی 1,454 افراد ہلاک اور 5,090 زخمی ہوئے۔ جنگ کا موجودہ مرحلہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے سے شروع ہوا تھا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے۔
البانیز نے امریکہ کی جانب سے 2025ء میں عائد کردہ پابندیوں کا بھی ذکر کیا، جن کے باعث وہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے اور ادائیگیاں وصول کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے کسی بھی انتظام میں فلسطینیوں کے لئے انصاف، جواب دہی اور سیاسی حقوق بنیادی حصہ ہونے چاہئیں۔
نوٹ: خصوصی نمائندہ اقوام متحدہ کی آزاد ماہر ہیں؛ ان کے بیانات سلامتی کونسل یا بین الاقوامی عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں۔ تحقیقاتی کمیشن اور خصوصی نمائندہ الگ میکانزم ہیں۔

متعلقہ پوسٹ