اوسلو (انٹرنیشنل ڈیسک): جنوبی افریقہ کی ممتاز ماہرِ قانون اور انسانی حقوق کی علم بردار ناوانیتھم "ناوی” پلّے کو ۲۰۲۶ء کا نوبیل امن انعام دیا گیا ہے۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی نے جمعہ ۹ اکتوبر کو اعلان کیا کہ انہیں امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کیلئے خدمات کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا۔
کمیٹی کے مطابق پلّے نے غیر معمولی جرأت اور دیانت داری کے ساتھ ایک ایسے عالمی قانونی نظام کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لا سکے۔
پلّے ۲۳ ستمبر ۱۹۴۱ء کو ڈربن میں تمل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف نیٹل سے قانون کی ڈگری لی اور بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ ۱۹۶۷ء میں وہ نیٹل صوبے میں اپنا قانونی دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں، جہاں انہوں نے نسل پرستی کے خلاف کارکنوں اور روبن جزیرے کے سیاسی قیدیوں کا دفاع کیا۔
۱۹۹۵ء میں وہ روانڈا کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی جج منتخب ہوئیں اور ۱۹۹۹ء سے ۲۰۰۳ء تک اس کی صدر رہیں۔ ژاں پال اکایسو کے مقدمے میں عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص حالات میں جنسی تشدد اور عصمت دری نسل کشی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جسے بین الاقوامی انصاف کی تاریخ میں اہم نظیر سمجھا جاتا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج بنیں اور ستمبر ۲۰۰۸ء سے اگست ۲۰۱۴ء تک اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں۔ وہ "ایکویلٹی ناؤ” کی شریک بانیوں میں بھی شامل ہیں۔
۲۰۲۶ء کے انعام کیلئے ۲۸۷ نامزدگیاں (۲۰۸ افراد اور ۷۹ تنظیمیں) ہوئی تھیں۔ انعام کی رقم ۱۲ ملین سویڈش کرونا ہے اور رسمی تقریب ۱۰ دسمبر کو اوسلو میں ہوگی۔

