نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک): غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں سے متعلق تحقیقاتی دستاویزی فلم "NAZA” نے فلمی ناقدین کی ویب سائٹ روٹن ٹومیٹوز پر ۱۰۰ فیصد ٹومیٹومیٹر اسکور حاصل کر لیا ہے۔ ابتدائی اعلان میں فلم کو ۴۴ جائزوں کی بنیاد پر "سرٹیفائیڈ فریش” قرار دیا گیا، جبکہ ۹ اکتوبر تک جائزوں کی تعداد ۵۰ ہو چکی تھی اور اسکور برقرار تھا۔ یہ اسکور ناقدین کے مثبت جائزوں کی عکاسی کرتا ہے، ناظرین کی ریٹنگ یا فلم کے تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق کی نہیں۔
اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہام اور ریچل شور کی ہدایت کاری میں بنی ۸۰ منٹ کی یہ فلم تل ابیب کی چھتوں سے رات کے وقت فلمائی گئی ہے۔ اس میں روایتی جنگی مناظر کے بجائے دو درجن سے زائد سابق اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے گمنام انٹرویوز اور ہاتھ سے بنی تصاویر استعمال کی گئی ہیں، جن میں شہری ہلاکتوں، اہداف کے انتخاب اور مصنوعی ذہانت و نگرانی پر مبنی نظاموں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ بیانات انٹرویو دینے والوں کے دعوے ہیں جن کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔ اسرائیلی فوج نے فلم کے الزامات کو گمراہ کن قرار دے کر مسترد کیا ہے۔
فلم کا عالمی پریمیر وینس فلم فیسٹیول میں ہوا جہاں اسے جیوری کا خصوصی انعام ملا اور اختتام پر تقریباً ۲۵ منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائی جانے کی اطلاعات ہیں۔ امریکہ میں محدود نمائش کے بعد ۹ اکتوبر سے اسے مزید شہروں میں دکھانے کا منصوبہ ہے۔ کیلیفورنیا کے مل ویلی فلم فیسٹیول میں نمائش کے باہر اسرائیل کے حامی مظاہرین نے احتجاج کیا اور کہا کہ فلم حماس اور ایران کے کردار کو مناسب اہمیت نہیں دیتی۔ آسکر یافتہ "دی زون آف انٹرسٹ” کے ہدایت کار جوناتھن گلیزر فلم کے ایگزیکٹو پروڈیوسروں میں شامل ہیں، جبکہ دی گارڈین اور جے ڈبلیو فلمز بھی تیاری میں شریک رہے۔

