پیرس (انٹرنیشنل ڈیسک): فرانس کے وزیرِ تعلیم ایڈورڈ جیفری نے جمعہ کو بتایا کہ ملک گیر ہائی اسکول مظاہروں کے آغاز سے اب تک ۱۰۰ سے زائد تعلیمی عملہ زخمی ہو چکا ہے، جبکہ تعلیمی حالات میں بہتری کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کی ناکہ بندی جاری ہے۔
‘لی پیرسئین’ کے مطابق پیرس کے قریب کاشاں کے ایک ہائی اسکول میں طلبہ اور اساتذہ سے ملاقات کے بعد جیفری نے کہا کہ زخمی عملے کی تعداد ۱۰۰ سے تجاوز کر گئی ہے۔ انہوں نے اس "ناقابلِ بیان تشدد” کی مذمت کی اور اسکول کی عمارتوں کی حفاظت کرنے والے عملے کی تعریف کی۔
گزشتہ اعداد و شمار کے مطابق تحریک کے آغاز سے اب تک ۲۱۵ طلبہ اور تقریباً ۸۰۰ پولیس اہلکار و جنڈرمز زخمی ہوئے تھے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق جمعرات کو ملک بھر میں ۷۱ ہزار ۵۰۰ افراد نے مظاہرہ کیا، جن میں پیرس کے ۲۴ ہزار ۵۰۰ شامل تھے۔ اس دن ۵۰۴ گرفتاریاں ہوئیں اور ۴۸ پولیس اہلکار و جنڈرمز زخمی ہوئے۔
طلبہ اساتذہ کی کمی، کلاسوں میں طلبہ کی زیادہ تعداد، ناکافی سہولیات اور اسکول کے اوقاتِ کار کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ جیفری نے کہا کہ ۳۰۲۴ متبادل اساتذہ سے تعیناتی کیلئے رابطہ کیا جا رہا ہے اور مزید کنٹریکٹ اساتذہ بھی بھرتی ہوں گے۔ اس کے باوجود طلبہ تنظیموں نے ۱۳ اکتوبر کو مظاہروں کی نئی کال دی ہے اور بعض نمائندے وزیرِ اعظم سیبسٹین لیکورنو سے ملاقات چاہتے ہیں۔ جمعہ کو پیرس، رینس اور اسٹراسبرگ سمیت کئی شہروں میں ناکہ بندی جاری رہی۔
پیرس کے استغاثہ نے ایک وائرل ویڈیو کی تحقیقات شروع کی ہیں جس میں مبینہ طور پر ایک پولیس اہلکار مظاہرین کے چہرے پر گھٹنا مارتا دکھائی دیتا ہے۔ پیرس میں پولیس تشدد کے مبینہ مقدمات کی تعداد پانچ اور ملک بھر میں ۲۱ سے زائد ہو چکی ہے۔ سی ایف ڈی ٹی یونین کی رہنما میری لیس لیون نے اساتذہ کی تعیناتی کو پہلا خوش آئند قدم قرار دیا مگر کہا کہ وسیع تر مطالبات حل طلب ہیں، اور پولیس ردِعمل کے متناسب ہونے پر سوال اٹھایا۔

