دس اکتوبر کی صبح کناٹ پلیس کے قریب تعینات سکیورٹی اہلکار (بائیں) اور گیتانجلی شری۔ تصویر: پی ٹی آئی اورارینجمنٹ
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مظاہروں کے بارے میں ممتاز فکشن نویس گیتانجلی شری لکھتی ہیں،’جمہوریت کی حفاظت صرف ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے، جو غلط کے خلاف احتجاج کرنے نکلے ہیں۔ جمہوریت کی حفاظت ان سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کی ذمہ داری بھی ہے، جنہیں بہادر اور محب وطن مظاہرین کی آواز دبانے کے احکامات صادر کیے گئے۔ کیا ان سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں؟ کیا ان کا عقل وشعور ان سے کچھ نہیں کہتا؟‘
یہ کیا ہو رہا ہے؟ اپنے جمہوری اور آئینی حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرنے پر اس قدرڈرانے اور دھمکانے کا ماحول بنا دیا ہے!
لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، کیونکہ وہ بہت بڑے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ان کے بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ ضروری ہے کہ حکومت سمجھے کہ غلطیاں ہوئی ہیں اور انہیں ٹھیک کرنا ہوگا، ملک کے لیے بھی اور خود اپنے لیے بھی۔ ورنہ احتجاج ہوگا، جیسے ہو رہا ہے۔
پرامن اور منصفانہ احتجاج بھی نہیں کرنے دیا جائے گا، تو جمہوریت کا مطلب ہی کیا رہ جائے گا؟
جمہوریت کی حفاظت صرف ان لوگوں کی ذمہ داری نہیں ہے جو غلط کے خلاف احتجاج کرنے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ جمہوریت کی حفاظت ان سکیورٹی اہلکاروں اور افسران کی ذمہ داری بھی ہے، جنہیں بہادر اور محب وطن مظاہرین کی آواز دبانے کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔ کیا ان اہلکاروں اور افسران کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں؟ کیا ان کا عقل و شعور ان سے کچھ نہیں کہتا؟
آپ بھی اپنے آپ سے پوچھیے کہ پڑھ لکھ کر جب آپ ان نوکریوں میں آئے ہیں تو کس کی حفاظت کرنے آئے ہیں؟ آپ کو اپنے ملک، اپنی جمہوریت اور اپنی انسانیت کی پرواہ نہیں ہے؟ کم از کم اپنے اندر جھانک کر تو دیکھیے-یہ جمہوریت، یہ ملک آپ کا بھی ہے۔ اس کی حفاظت کیجیے۔
(گیتانجلی شری ممتاز ادیبہ اور فکشن نویس ہیں۔)

