ٹرمپ نے لبنان اور امریکہ کے درمیان پروازوں پر عائد دہائیوں پرانی پابندیاں ختم کر دیں

air 101026 d


واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لبنان سے آنے اور جانے والی پروازوں پر عائد دہائیوں پرانی پابندیاں باضابطہ طور پر ختم کر دی ہیں۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی کی سب سے بڑی قانونی رکاوٹوں میں سے ایک دور ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کے 30 ستمبر کو دستخط شدہ اور امریکی فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے صدارتی میمورنڈم کے مطابق 1985ء، 1992ء، 1998ء اور 2007ء کے صدارتی احکامات کے تحت عائد پابندیاں اب طیاروں کی سلامتی یقینی بنانے اور انہیں غیر قانونی قبضے سے بچانے کے لیے ضروری نہیں رہیں۔ انہوں نے چاروں احکامات مکمل طور پر منسوخ کر دیے اور امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن کو حکم دیا کہ اس فیصلے پر فوری عمل کریں اور متصادم ضابطے یا احکامات ختم کریں۔
براہ راست پروازوں کا معاملہ لبنانی صدر جوزف عون نے گزشتہ جولائی میں واشنگٹن کے دورے کے دوران اٹھایا تھا۔ لبنانی صدارت کے مطابق عون نے ٹرمپ سے براہ راست فضائی رابطوں کی بحالی کی اہمیت پر بات کی، جبکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
واشنگٹن میں لبنانی سفارت خانے نے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے لبنانی حکام کے سیکیورٹی اقدامات پر اعتماد کا عکاس اور براہ راست پروازوں کی بحالی کی جانب اہم پہلا قدم قرار دیا۔ الشرق کے مطابق بیروت۔نیویارک پہلا روٹ ہے جس پر کام ہو رہا ہے۔
تاہم پابندیاں ہٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ پروازیں فوراً شروع ہو جائیں گی۔ بیروت اور واشنگٹن کو ابھی ریگولیٹری، سیکیورٹی اور آپریشنل انتظامات حتمی کرنا ہیں، امریکی منظوری لینی ہے اور فضائی نقل و حمل کے انتظامات قائم کرنے ہیں۔ آغاز کی کوئی تاریخ مقرر نہیں۔ مڈل ایسٹ ایئرلائنز نے گزشتہ جولائی میں کہا تھا کہ اس کے پاس بیروت۔نیویارک روٹ کے لیے طیارے موجود ہیں، لیکن اس کے لیے امریکی فریق سے ہم آہنگی اور طریقہ کار کی تکمیل درکار ہے۔

متعلقہ پوسٹ