اسلام آباد — وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کے لیے پیداوار کی نگرانی کا نظام رواں برس کے اختتام یعنی 31 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں کیمروں کے ذریعے پیداوار کی نگرانی کا نظام مکمل نصب ہو چکا ہے۔ ٹیکسٹائل، پیکیجڈ پانی، جوس اور دودھ کے شعبوں میں نظام نصب کیا جا رہا ہے، جبکہ سٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک مکمل کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 30 اکتوبر تک مکمل کی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداوار کی نگرانی مؤثر بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے نظام کی تنصیب میں رکاوٹیں دور کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ صارف سے ٹیکس وصول کر کے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
انہوں نے رضاکارانہ طور پر نگرانی کا نظام نصب کرنے والی صنعتوں کی تعریف کی۔ ٹیکسٹائل شعبے میں نشاط ملز، الکرم ٹیکسٹائل، الکرم کاٹن ملز، جے کے سپننگ ملز، صورتی انٹرپرائز، انٹرلوپ، فیصل سپننگ ملز، ابراہیم فائبرز، سفائر ٹیکسٹائلز اور نشاط چونیاں نے نظام خود نصب کیا ہے۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 1.3 ٹریلین روپے کا اضافی ٹیکس وصول ہوا، جو ٹیکس وصولی میں 40 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ وزیراعظم نے ٹیکس استعداد اور وصولی کے فرق پر رپورٹ تیار کرنے والی ایف بی آر ٹرانسفارمیشن ٹیم کی کارکردگی کی پزیرائی کی اور اجلاس کے اختتام پر ٹیم کے ارکان کو شیلڈز بھی پیش کیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، مشیر وزیراعظم ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام شریک تھے۔

