پیرس: ایئر فرانس نے مسلم اکثریتی ممالک کے پائلٹوں اور کیبن کرو کے اسرائیلی فضائی حدود میں پرواز پر پابندی قبول کر لی

airfr 151026 d


پیرس — فرانس کی قومی ایئر لائن ایئر فرانس نے اسرائیل کی جانب سے عائد نئی پابندیوں کی تعمیل کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 31 مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں، بشمول پاکستان، کو اسرائیلی فضائی حدود میں پرواز یا داخلے سے روکا جائے گا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پابندی ان پائلٹوں اور کیبن کرو پر لاگو ہوگی جن کی بنیادی یا دوہری شہریت ان ممالک میں ہے جن کے تل ابیب کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ ایئر فرانس نے ایک بیان میں فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
یہ پیش رفت 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مبینہ واقعے کے بعد سامنے آئی، جس میں عمانی کو پائلٹ نے مبینہ طور پر طیارے کو حادثے کا شکار بنانے اور مسافروں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔ طیارے میں سوار 174 مسافروں میں سے 150 کا تعلق اسرائیل سے تھا، تاہم واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کاک پٹ میں ہونے والی جھڑپ کے دوران عمانی کو پائلٹ نے ہندوستانی پائلٹ سمت مچھار پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد طیارہ تقریباً 17 ہزار فٹ کی بلندی سے صرف ایک منٹ میں نیچے آ گیا اور بعد ازاں اسے شمال مغربی سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر محفوظ طریقے سے لینڈ کرایا گیا۔
ایئر فرانس نے کہا کہ تمام ایئر لائنز کی طرح اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ ان تمام ممالک کے طے شدہ داخلے کے قوانین کی پاسداری کرے جہاں وہ خدمات فراہم کرتی ہے، اور یہ قوانین مسافروں اور عملے کے تمام ارکان پر یکساں لاگو ہوتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا اور فرانسیسی تحقیقاتی جریدے میڈیا پارٹ کے مطابق پابندیوں میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، مالدیپ، انڈونیشیا، ملائیشیا، ایران، عراق، سعودی عرب، قطر، لبنان، شام، یمن اور سوڈان شامل ہیں۔ فہرست میں شمالی کوریا، کیوبا، نکاراگوا، بیلیز اور وینزویلا جیسے غیر مسلم اکثریتی ممالک بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی ایئر لائن یونائیٹڈ ایئر لائنز اور اسمارٹ ونگز ایئر لائنز نے بھی ان نئے قواعد کی پاسداری پر اتفاق کیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ