اسرائیل الیکشن: نیتن یاہو کا نیا سیکوریٹی منصوبہ، اپوزیشن نے ’خالی نعروں‘ کا مجموعہ قرار دیا

yahusu 191026 d


یروشلم (نامہ نگار) — اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے 10 اصولوں پر مشتمل نیا منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں پیشگی فوجی حملوں، سرحدوں پر بفر زونز، انٹیلی جنس کی مضبوطی اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے اسے ’’سطحی‘‘ اور ’’عجیب و غریب‘‘ قرار دیتے ہوئے طنز کیا کہ بظاہر اسے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹ کے مفت ورژن سے لکھوایا گیا ہے، جبکہ سابق فوجی سربراہ گیڈی ایسن کوٹ نے اسے ’’خالی نعروں سے بھرے ہوئے صفحات‘‘ اور اسرائیل کی سلامتی سے متعلق ’’اسٹریٹجک خلاء‘‘ کا مظہر قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو قومی سلامتی سے متعلق ایک نئی دستاویز جاری کی، جس میں ملک کی دفاعی حکمتِ عملی کو پیشگی فوجی کارروائیوں، سرحدی بفر زونز اور فوجی برتری کے حصول کی جانب منتقل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ تین صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں 10 اصول پیش کیے گئے ہیں۔
یہ منصوبہ 27 اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے محض 9 روز قبل سامنے آیا ہے، جس پر اپوزیشن رہنماؤں نے سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم ماضی کی سیکوریٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے انتخابی مہم میں سلامتی کے موضوع کو استعمال کر رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی دستاویز کا عنوان ’’وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیکوریٹی نظریہ‘‘ ہے۔
نیتن یاہو نے اس میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ، لبنان، یمن اور ایران میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے ملک کے گرد قائم اس حصار کو توڑ دیا ہے جسے وہ ایران کی قیادت میں محاصرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کارروائیوں سے ’’ایٹمی تباہی‘‘ کا فوری خطرہ بھی ختم ہوا ہے۔ اسی تناظر میں دستاویز میں خطرات سامنے آنے کے بعد دفاعی ردعمل دینے کے بجائے ضرورت پڑنے پر پیشگی فوجی حملے کرنے کی حکمتِ عملی کی حمایت کی گئی ہے۔ یہ نیتن یاہو کے دعوے ہیں، جبکہ اپوزیشن ان کی حکومت کی جانب سے فوجی کامیابیوں کے بارے میں پیش کیے جانے والے موقف کو چیلنج کر رہی ہے۔
نئے منصوبے میں انٹیلی جنس نظام کو مزید مؤثر بنانے، مقامی سطح پر اسلحے کی پیداوار بڑھانے اور مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو بھی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی سرحدوں کے ساتھ بفر زونز قائم کرنے اور ان علاقوں میں بستیوں کی توسیع کی حمایت کی گئی ہے جنہیں نیتن یاہو ’’اسرائیلی زمین‘‘ قرار دیتے ہیں۔ تاہم دستاویز میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بفر زونز کن مقامات پر قائم کیے جائیں گے یا اس مقصد کے لیے پڑوسی علاقوں میں کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے اس دستاویز کی اشاعت پر طنز کرتے ہوئے اسے ’’سطحی‘‘ اور ’’عجیب و غریب‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ دستاویز مصنوعی ذہانت کے کسی چیٹ بوٹ کے مفت ورژن سے تیار کروائی گئی ہو۔ لپیڈ کے مطابق چند صفحات پر اصول درج کر دینا ایک جامع قومی سلامتی کی حکمتِ عملی پیش کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
انہوں نے منصوبے کے دعووں اور نیتن یاہو کی عملی پالیسیوں کے درمیان تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دینے، اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات میں بگاڑ اور اکتوبر 2023ء کے حملے سے پہلے ہونے والی سیکوریٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن قائم نہ کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔
سابق اسرائیلی فوجی سربراہ اور اپوزیشن جماعت یاشر کے لیڈر گیڈی ایسن کوٹ نے بھی اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے اسے ’’خالی نعروں سے بھرے ہوئے صفحات‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی سلامتی کی پالیسی میں موجود ’’اسٹریٹجک خلاء‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔
ایسن کوٹ کے مطابق انتخابات سے چند روز قبل اس دستاویز کی اشاعت حکومت کی کارکردگی اور سیکوریٹی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ انتخابی فائدے کے لیے عوامی خدشات اور خوف کو استعمال کر رہے ہیں۔
ایسن کوٹ نے وزیراعظم کے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے ملک کو درپیش خطرات ختم کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق حماس اب بھی غزہ میں مسلح قوت برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ حزب اللہ لبنان میں اپنی صلاحیتیں دوبارہ منظم کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب تک یہ خطرات موجود ہیں اور اکتوبر 2023ء کی سیکوریٹی ناکامیوں کی جامع تحقیقات نہیں ہوتیں، محض اصولوں اور اعلانات پر مشتمل دستاویز کو مکمل قومی سلامتی کی حکمتِ عملی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایسن کوٹ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر اپوزیشن کی قیادت میں حکومت قائم ہوئی تو اقتدار سنبھالنے کے 150 دن کے اندر ایک باضابطہ اور جامع قومی سلامتی کی حکمتِ عملی تیار کر کے اس کی منظوری دی جائے گی۔
اسرائیل کی انتخابی مہم میں قومی سلامتی، اکتوبر 2023ء کی ناکامیوں کی جواب دہی، فوجی کارروائیوں کے نتائج اور ملک کے بین الاقوامی تعلقات اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو کی نئی دستاویز نے ان معاملات پر جاری سیاسی اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

متعلقہ پوسٹ