فاروق عبداللہ نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قبضہ کے خلاف بغاوت کر دی، پاکستان کی پہلی بار تعریفیں

news 1792852662 9066


(وسیم عظمت)  بھارت کی کشمیریوں کیلئے نیت ٹھیک نہیں، پاکستان صحیح کر رہا ہے،  مقبوضہ بارہ مولا میں نیشنل کانفرنس کے ہزاروں کارکنوں کے پالیسی ساز اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر مین بھارت کے سب سے بڑے ساتھی فاروق بداللہ نے  اپنے رخ میں واضح تبدیلی کا اشارہ کردیا۔ اپنے اس خطاب سے فاروق عبداللہ کشمیر کی سیاست میں بھونچال لے آئے۔

فاروق عبداللہ کی بھارت اور پاکستان کی کشمیر کے متعلق پالیسیوں کے تقابل پر مبنی خطاب کو بھارت کی نیوز آؤٹ لیٹس نے   24 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیا ہے۔ اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس پر تبھی سے واویلا شروع کر رکھا ہے۔ اپنے اس خطاب  کے لئے  سابق وزیراعلیٰ، نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے سری نگر کے بجائے شمالی کشمیر کے بارہمولہ  کا انتخاب کیا جو کئی دہائیوں سے پاکستان کے حامی آزادی پسند کشمیریوں کا گڑھ رہا ہے۔ 

فاروق عبداللہ نے کیا کہا؟

بارہ مولا میں نیشنل کانفرنس کے ہزقاروں کارکنوں کے بہت بڑے نمائندہ اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے اپنی پارٹی کی بدلتی ہوئی پالیسیوں پر مفصل بات کی ، انہوں نےبھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی پر سخت تنقید  تو کی ہی لیکن اس مرتبہ فاروق عبداللہ نے پاکستان کے بارے مین بہت دلچسپ اعترافات کئے۔ فاروق عبداللہ کو مقبوضہ کشمیر مین بھارت کی مرکزی حکومت کا ستون سمجھا جاتا رہا ہے اور وہ آزادی کی تحریک کے عروج کے دوران بھارت کے کشمیر پر قبضہ کو برقرار رکھنے کا اہم ترین فیکٹر تھے۔ اب وہ کھلم کھلا اپنی پالیسی بدل کر پاکستان کی تعریفیں کر رہے ہیں۔

news 1792852666 9428

  فاروق عبداللہ نے بھارت کی مرکزی حکومت سے کشمیری عوام کو انصاف ملنے  کے امکان پر سوال اٹھایا اور کہا کہ  کشمیریوں کو حقوق محض مطالبوں سے نہیں ملیں گے، کشمیریوں کو اپنے حقوق اور  اپنی شناخت کے تحفظ کیلئے خود کھڑا ہونا ہوگا۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی فورمز پر مسئلۂ کشمیر اٹھا رہا ہے اور اس سے بھارت پر عالمی دباؤ پڑ رہا ہے۔
ان کے الفاظ میں، بھارت کے حکمرانوں کے ارادے کشمیریوں کے بارے میں درست نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  بی جے پی جھوٹی پارٹی ہے، ان سبھی لوگوں سے بدلہ لینے پر آمادہ ہے جو ان سے متفق نہیں ، نصیر الدین شاہ 
فاروق عبداللہ کی شدید تنقید  نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بوکھلا دیا ۔ بی جے پی کے  رہنماؤں نے بوکھلا کر بھارت کے دیرینہ حلیف فاروق عبداللہ کو  پاکستان نواز قرار دے دیا۔ بی جے پی کے  بعض رہنماؤں نے فاروق عبداللہ سے معافی مانگنے کا بچگانہ مطالبہ بھی کیا۔ 

 بھارت کی نیوز آؤٹ لیٹس میں فاروق عبداللہ کی بھارتی ریاست کے خلاف تقریر کے متعلق  رپورٹیں آج شائع ہوئی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے پہلے وزیر اعلیٰ مولوی عبداللہ کے صاحبزادے، خود کشمیر کے کئی بار وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ نے 24 اکتوبر 2026ء کو شمالی کشمیر کے بارہمولہ (Baramulla) میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کیا جو صرف آرٹیکل 370 یا پاکستان کے بارے میں نہیں تھا۔ دستیاب رپورٹوں کے مطابق انہوں نے کشمیر کی شناخت، نئی دہلی کی پالیسی، ریاستی حیثیت کی بحالی، مسلمانوں کے خلاف انہدامی کارروائیوں، میڈیا، نوجوانوں اور اپنی جماعت کے کارکنوں سمیت کئی موضوعات پر بات کی۔

بھارت کی نیوز آؤٹ لیٹس نے فاروق عبداللہ کے تاریخ ساز خطاب کو لفظ بلفظ شائع کرنے سے گریز کیا ہے۔ ابھی اس خطاب کا مکمل، لفظ بہ لفظ  متن نہیں ملا۔  مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کو یکجا کرکے جو تفصیل سامنے آئی ہے وہ یوں ہے: 

پاکستان اور بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی کا تقابل
بارہ مولا کے نیشنل کانفرنس ورکرز کنونشن میں فاروق عبداللہ کے خطاب کا، بھارتیہ جنتیا پارٹی کی مرکزی حکومت کی نیندیں اڑا دینے والا  حصہ وہ تھا جس مین انہوں نے پاکستان کی کشمیر کی آزادی کے لئے سفارتی کوششوں کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔

فاروق عبداللہ نے پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی فورمز پر مسئلۂ کشمیر اٹھانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:

“He is protecting us; otherwise, their intentions are not good.”
یعنی ان کے بقول پاکستان مسئلۂ کشمیر اٹھا کر کشمیریوں کا تحفظ کر رہا ہے، ورنہ بھارتی حکومت کے ارادے اچھے نہیں ہیں۔

انہوں نے پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلسل مختلف جگہوں پر یہ مؤقف پیش کر رہا ہے کہ مسئلۂ کشمیر ابھی حل نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی دباؤ کے باعث بھارتی حکومت اب خاموش ہے۔

فاروق عبداللہ نے نئی دہلی سے انصاف ملنے کے امکان پر بھی سوال اٹھایا اور کشمیریوں سے کہا کہ انہیں اپنے حقوق اور شناخت کے لیے خود ہمت سے کھڑا ہونا ہوگا۔

 کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی
فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی نے حد بندی اور انتخابات کے بعد جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔

ان کے الفاظ رپورٹ ہوئے:

“In Delhi, we were promised statehood after delimitation and elections, but that is nowhere.”
یعنی دہلی میں ہم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ حد بندی اور انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال ہوگی، لیکن اس کا کہیں نام و نشان نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر مشکل دور سے گزر رہا ہے اور لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے حکمرانوں کے بارے میں کہا کہ وہ آتے جاتے رہتے ہیں، ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔ 

 کیا کشمیری خود کو آزاد سمجھتے ہیں؟
خطاب میں انہوں نے لوگوں کو متنبہ کیا کہ محض یہ سمجھ لینا کافی نہیں کہ وہ آزاد ہیں، اگر وہ ناانصافی کے خلاف آواز بھی نہیں اٹھا سکتے۔

کشمیر کنوینر کی رپورٹ میں ان سے یہ الفاظ منسوب کیے گئے:

“Don’t think that you are free. You have become a slave.”
ترجمہ: یہ نہ سمجھو کہ تم آزاد ہو، تم غلام بن چکے ہو۔

اسی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب تک لوگ متحد نہیں ہوں گے، وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکیں گے۔ کشمیر ریڈر اور کشمیر نیوز آبزرور کی رپورٹوں میں بھی حقوق کے لیے ہمت، اتحاد اور آواز اٹھانے پر زور دینے کا ذکر ہے۔

 

 انہوں نے بھارت سے اپنی وابستگی ختم کرنے کی بات نہیں کی
فاروق عبداللہ کے اس  خطاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ نئی دہلی پر سخت تنقید کے ساتھ انہوں نے بھارت سے اپنی سیاسی وابستگی کا حوالہ بھی دیا۔

ان کے الفاظ رپورٹ ہوئے:

“We never said we are not Indians, but we keep on reiterating that we have joined Gandhi’s India, Nehru’s India.”
یعنی ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہم بھارتی نہیں ہیں۔ ہم تو مسلسل کہتے رہے ہیں کہ ہم گاندھی کے بھارت، نہرو کے بھارت کے ساتھ وابستہ ہوئے تھے۔

یہ جملہ ان کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ وہ اپنی تقریر میں بھارتی حکومت کی موجودہ پالیسی پر اعتراض کر رہے تھے، جبکہ اپنی سیاسی وابستگی کو گاندھی اور نہرو کے تصورِ بھارت سے جوڑ رہے تھے۔ دراصل وہ بھارت کے آئین کے آرٹیکل  370  سے وابستگی کا اظہار کر رہے تھے جس نے کشمیر کو ہمیشہ مرکزی حکومت مین شامل دوسری بھارتی ریاستوں سے الگ،  درجہ دیئے رکھا تھا لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس آرٹیکل پو بھارت کے آئین سے ہی اکھاڑ پھینکا ہے۔ 

 
 مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو گرانے کے خلاف اتحاد
فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر سے باہر، بی جے پی کے زیرِ  تسلط ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف انہدامی کارروائیوں پر بھی تنقید کی۔

ان کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کے گھر، دکانیں اور عبادت گاہیں گرائی جا رہی ہیں، اور مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہونا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی سیاسی جماعت یا حکومت کی حمایت کیوں کی جائے جس کے دور میں، ان کے بقول، مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی اپیل صرف کشمیری مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پورے بھارت کے مسلمانوں کے لیے تھی۔

 فاروق عبداللہ نے انہدامی کارروائیوں کو مذہبی بنیاد پر امتیازی قرار دیا۔

 میڈیا کی آزادی اور صحافیوں پر دباؤ
فاروق عبداللہ نے بھارت میں مین اسٹریم میڈیا کے ایک بڑے حصے کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکمرانوں کا ترجمان قرار دیا۔مالی مراعات اور حکومتی دباؤ نے بعض میڈیا اداروں کی ادارتی آزادی متاثر کی ہے۔

انہوں نے کہا،  حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو پولیس کی طلبی اور دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ الزامات ان کی تقریر کے اہم حصوں میں شامل تھے۔ 

 نوجوان، موبائل فون اور کشمیر کی تاریخ
بھاسکر ڈیجیٹل کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ نے نوجوانوں کے موبائل فون پر زیادہ وقت صرف کرنے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا والدین کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں کا پورا علم ہے؟

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کی تاریخ اور اس کے سیاسی سفر سے واقف ہوں۔ ان کے نزدیک اپنی تاریخ سے ناواقفیت لوگوں کے لیے اپنے حقوق اور سیاسی صورتِ حال کو سمجھنا مشکل بنا سکتی ہے۔

 نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو تنبیہ
یہ تقریر صرف دہلی یا بی جے پی پر تنقید نہیں تھی۔ عبداللہ نے اپنی جماعت نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کو بھی مخاطب کر کے کہا، اگر آپ نے واقعی اس جماعت کے لیے قربانیاں دی ہیں تو دیانت داری کے ساتھ اس کا ساتھ دیں، بے ایمانی کے ساتھ نہیں۔

انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ جو لوگ آج حکومت میں ہونے کی وجہ سے جماعت کے ساتھ ہیں، کیا وہ اقتدار ختم ہونے کے بعد بھی اس کے ساتھ رہیں گے؟

  غربت، بجلی اور پن بجلی کے منصوبے
کشمیر نیوز سروس کی رپورٹ میں عبداللہ کے یہ الفاظ نقل کیے گئے:

“I am not asking you to make me Chief Minister. I am not asking you to make me President. I am asking you to remove our poverty.”
ترجمہ:  میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھے وزیراعلیٰ یا صدر بنائیں۔ میں کہہ رہا ہوں کہ ہماری غربت دور کریں۔

انہوں نے بجلی کی پیداوار کے باوجود  بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بجلی کی قلت پر  شدید احتجاج کیا۔ اپنے دورِ وزارتِ اعلیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے پن بجلی کے منصوبوں اور انہیں واپس حاصل کرنے کی بات بھی کی۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ علاقے کے وسائل سے پیدا ہونے والے فوائد مقامی لوگوں کو بھی ملنے چاہییں۔

 طبی شعبے کے اختیارات اور لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر میں فائلیں
فاروق عبداللہ کی غیر معمولی تقریر کا یہ ایک نسبتاً کم رپورٹ ہونے والا، مگر مقامی حکمرانی سے براہِ راست متعلق پہلو تھا۔ IANS کی رپورٹ، جو مورننگ ایکسپریس نے شائع کی، کے مطابق فاروق عبداللہ نے کہا کہ صحت کے شعبے سے متعلق بعض فائلیں ایک سال سے زیادہ عرصے سے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے دفتر میں زیرِ التوا ہیں۔ گورنر کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے وزیراعظم نریندر مودی سے ہے۔

انہوں نے ڈاکٹروں کی تربیت اور لازمی سروس سے متعلق معاملے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو دو سال ہسپتالوں میں خدمات انجام دینی ہوتی ہیں، بصورتِ دیگر 40 لاکھ روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے میں فیصلے کی تاخیر پر اعتراض کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے طبی اداروں کے ڈائریکٹر اور متعلقہ کمیٹیاں آلات کی خریداری اور ڈاکٹروں کی تقرری کے فیصلے کرتی تھیں، مگر اب ان کے اختیارات کم کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ انتظامیہ نے اداروں کی خودمختاری ختم کر دی ہے۔

 پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر تنقید
عبداللہ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی اتحادی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پی ڈی پی پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ بی جے پی کے ساتھ اس کے اتحاد نے 2019ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔

 بی جے پی کا ردعمل کیا تھا؟
فاروق عبداللہ کے پاکستان سے متعلق بیان پر بی جے پی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا۔

جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر ست شرما نے ان سے عوامی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر وہ پاکستان کی تعریف کرتے ہیں تو وہاں جا کر رہیں۔
بی جے پی کے ترجمان آر پی سنگھ نے کہا کہ انہیں سرحد پار کشمیریوں کی صورتِ حال بھی دیکھنی چاہیے۔
بی جے پی کے بعض دیگر رہنماؤں نے ان کے بیان کو پاکستان نواز اور ملک مخالف قرار دیا، جبکہ ایک رہنما نے بغاوت کے مقدمے کا مطالبہ بھی کیا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ