سائنسدانوں کا مونا لیزا کی خوبصورتی کے پیچھے چھپا ایک راز دریافت کرنیکا دعویٰ

news 1793203816 1857



news 1793203816 1857

(ویب ڈیسک)اگر مصوری کی دنیا کی بات کی جائے تو اطالوی مصور لیونارڈو ڈاونچی کی پینٹنگ مونا لیزا مقبول ترین قرار دی جاسکتی ہے۔

یہ پینٹنگ 1503 سے 1519 کے درمیان کسی وقت مکمل ہوئی تھی اور اب بھی اس خاتون کی مسکراہٹ کو پراسرار قرار دیا جاتا ہے۔

مگر اب سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس جادوئی خوبصورتی کی حامل خاتون کو بالوں سے محرومی کے دائمی عارضے کا سامنا تھا۔

جی ہاں واقعی اٹلی سے تعلق رکھنے والے ماہرِ جلد ڈاکٹر لیوگی لیانو نے ایک تحقیقی مقالے میں یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ مونا لیزا ممکنہ طور پر ایلوپیشیا ایریاٹا یونیورسالِس نامی بیماری کا شکار تھیں، جس میں جسم کے مختلف حصوں کے بال جھڑ سکتے ہیں۔

 تاہم، یہ محض پینٹنگ میں نظر آنے والی علامات کی بنیاد پر پیش کیا گیا ایک مفروضہ ہے، جس کی تاریخی یا طبی طور پر حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔

جرنل کلینکس ان ڈرماٹولوجی میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ مونا لیزا کے چہرے پر 4 چیزوں کو دیکھا جاسکتا ہے، یعنی بھنویں مکمل طور پر ناپید ہیں، پلکیں بھی موجود نہیں، پیشانی کے اوپر بالوں کا انداز اور بے داغ جِلد۔

تحقیق کے مطابق صرف ایک ہی سائنسی خیال ہی مونا لیزا کے چہرے کی وضاحت کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر لیوگی کے مطابق صرف ایلوپیشیا ایریاٹا ان چاروں وجوہات کو کور کرتا ہے۔

آنکھوں کے سامنے موجود ثبوت سے ہٹ کر ڈاکٹر لیوگی نے دعویٰ کیا کہ تاریخی واقعات سے بھی اس خیال کو تقویت ملتی ہے۔

اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ اس معروف چہرے کے پیچھے چھپا اصل نام لیزا گیرارڈینی تھا۔

فنِ تعمیر اور تاریخ کے بیشتر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ لیونارڈو ڈاونچی نے مونا لیزا کی تصویر انہی کو سامنے بٹھا کر بنائی تھی۔

15 جون 1479 کو اطالوی شہر فلورنس کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہونے والی لیزا گیرارڈینی کی شادی محض 15 سال کی عمر میں ایک امیر ریشم کے تاجر فرانسسکو ڈیل جیوکونڈو سے ہوئی تھی۔

وہ عہد میں سیاسی انتشار اور وبائی امراض سے بھرا ہوا تھا۔

ڈاکٹر لیوگی کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے کسی ایک چیز کا تناؤ ہی بالوں کے دائمی مرض کا شکار بناسکتا ہے اور لیزا گیرارڈینی کو ان سب کا سامنا تھا تو بالوں کی اچھی صحت کو برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔

ویسے ابھی تو اس تحقیق کے نتائج کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جاسکا، البتہ ایسا ہوا تو وہ تاریخ کی سب سے معروف شخصیت ہوں گی جن کو ایلوپیشیا ایریاٹا کا سامنا ہوا۔

ڈاکٹر لیوگی کے مطابق ‘میں نے بس آرٹ کی تاریخ کے سب سے معروف چہرے پر موجود حقیقت کو پیش کیا ہے، جو کہ ہمیشہ سے آنکھوں کے سامنے موجود تھی، ایک نوجوان خاتون جو ایلوپیشیا ایریاٹا کا شکار تھی’۔

خیال رہے کہ صدیوں تک اس بات پر بحث رہی کہ مونا لیزا اصل میں کون تھیں، لیکن 2005ء میں ہیڈلبرگ یونیورسٹی کی لائبریری سے 1503ء کی ایک پرانی تحریر ملی جس نے حتمی طور پر ثابت کر دیا کہ پینٹنگ کی ماڈل اصل میں لیزا گیرارڈینی تھیں۔

جہاں تک پینٹنگ کے نام کی بات ہے تو مونا بنیادی طور پر اطالوی لفظ میڈونا کا مخفف ہے اور مونا لیزا کا مطلب محترمہ لیزا بناتا ہے۔

اپنے شوہر کے انتقال کے بعد وہ ایک راہبہ خانے میں منتقل ہوگئی تھیں اور وہاں 14 جولائی 1542 کو 63 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پیٹرول پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی؛اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا





Source link

متعلقہ پوسٹ