
(ویب ڈیسک)بحیرۂ عرب کے جنوب مشرقی گہرے پانیوں میں برقی جھٹکے پیدا کرنے والی مچھلی کی نئی نوع دریافت کر لی گئی ہے۔
بھارتی محکمۂ حیوانیات کے مطابق شمالی بحرِ ہند میں ٹیٹرونارسی نسل کی یہ پہلی مصدقہ دریافت ہے، جس سےگہرے سمندر میں موجود حیاتیاتی تنوع کے حوالے سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
بھارتی محکمۂ حیوانیات کےمطابق یہ تحقیق وزارتِ ارضیاتی علوم کے ڈیپ اوشن مشن کے تحت کی گئی، جس کے نتائج بین الاقوامی سائنسی جریدے زوٹاکسا میں شائع ہوئے ہیں۔
محققین کےمطابق نئی دریافت ہونے والی مچھلی کی جسمانی ساخت اور جینیاتی خصوصیات اسے اس نسل کی دیگر اقسام سے منفرد بناتی ہیں۔
اسکی پشت کا رنگ گہرا نیلگوں سیاہ یا بھورا ہے،جبکہ اس کے جسم کی چوڑائی لمبائی سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز میں بحری جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع
تحقیق میں اس کی ریڑھ کی ہڈی میں مہروں کی مجموعی تعداد 99 ریکارڈ کی گئی، ڈی این اے تجزیے سے بھی اس کے الگ ارتقائی سلسلے سے تعلق کی تصدیق ہوئی۔
اس نئی نوع کو ٹیٹرونارسی رامان مورتی کا نام دیا گیا ہے، جو وزارتِ ارضیاتی علوم کے ڈیپ اوشن مشن کےڈائریکٹر ڈاکٹر ایم وی رامانا مورتی کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔
برقی شعاع مچھلیاں عموماً سمندر کی ریتلی یا کیچڑ والی تہہ پر رہتی ہیں اور اپنے شکار کو بے حرکت کرنے یا خطرے سے بچنے کے لیے برقی جھٹکے پیدا کرتی ہیں۔
ان مچھلیوں میں 8 سے 220 وولٹ تک برقی جھٹکے پیدا کرنے کی صلاحیت ہوسکتی ہے۔
سائنس دانوں کےمطابق گہرے سمندر میں تحقیق انتہائی مشکل ہونے کے باعث وہاں موجود جانداروں کی متعدد اقسام اور ان کی خصوصیات اب بھی دریافت طلب ہیں۔
نئی دریافت سمندری حیات اور اس کے ارتقائی عمل کو سمجھنے میں اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

