تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے بدھ 28 اکتوبر کو عرب سیاسی جماعتوں پر انتخابات میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے ذریعے ووٹ چرانے کا الزام لگایا ہے۔ ابتدائی نتائج میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا اور نہ نیتن یاہو اور نہ ان کے مرکزی حریف گاڈی آئزن کوٹ کو پارلیمانی اکثریت ملتی دکھائی دیتی ہے۔
لیکوڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ عرب جماعتوں نے رشوت، ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے، تشدد، جعلسازی اور ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر کے استعمال جیسے سنگین جرائم کے ذریعے انتخابات چرائے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ عرب جماعت رعام کے لیے نقد رقم اور بیلٹ سے بھرے ہزاروں لفافے ووٹرز میں تقسیم کیے گئے، جبکہ کچھ ووٹرز نے متعدد بیلٹ ڈالے، جعلی شناختیں استعمال کیں اور ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر پر انحصار کیا۔ لیکوڈ کے مطابق وہ سینکڑوں گواہوں کے بیانات اور شواہد پولیس، شین بیٹ اور سینٹرل الیکشن کمیٹی کے حوالے کر رہی ہے اور مکمل تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ ان الزامات میں سے کسی کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور لیکوڈ نے اپنے مبینہ ثبوت عام نہیں کیے۔
اب تک 85.6 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد نتیجہ غیر یقینی ہے۔ نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد 53 نشستوں کے ساتھ آگے ہے، حزبِ اختلاف کا اتحاد 48 پر ہے اور عرب جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں۔ پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، اس لیے کوئی بلاک اس حد تک نہیں پہنچا۔ ٹرمپ کی حمایت کے باوجود نیتن یاہو کو اپنی سیاسی بقا کے حوالے سے حقیقی غیر یقینی کا سامنا ہے، جبکہ آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

