امریکی جج کا ٹرمپ انتظامیہ کو انتخابی عہدیداروں کو دھمکانے سے روکنے کا حکم
وفاقی جج ٹرینا تھامپسن نے اس حوالے سے عارضی حکم امتناع جاری کیا
امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ اور محکمہ انصاف کو ریاستی اور مقامی انتخابی عہدیداروں کو دھمکانے، دباؤ ڈالنے یا فوجداری کارروائی کی دھمکیاں دینے سے روک دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی جج ٹرینا تھامپسن نے جمعہ کو اس حوالے سے عارضی حکم امتناع جاری کیا جو 16 نومبر تک نافذ العمل رہے گا۔
عدالتی حکم کے مطابق محکمہ انصاف انتخابی حکام کو ایسے ووٹرز کے بیلٹ پیپرز الگ رکھنے، ان کی گنتی روکنے یا ووٹر فہرستوں سے نام خارج کرنے کا مطالبہ نہیں کرسکے گا جنہیں وفاقی حکومت نے مبینہ طور پر غیر امریکی شہری قرار دیا ہے۔
حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی حکام کو محض اس بنیاد پر ووٹوں کی گنتی روکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ متعلقہ ووٹرز کی شہریت مشکوک ہے۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ریاست کیلیفورنیا کے تقریباً 20 ہزار ووٹوں کو الگ رکھنے کا مطالبہ کیا۔ محکمہ انصاف کا مؤقف تھا کہ ان ووٹوں میں ایسے افراد کے بیلٹ بھی شامل ہوسکتے ہیں جو امریکی شہری نہیں ہیں۔
تاہم ریاستی اور مقامی انتخابی حکام نے وفاقی حکومت کی فراہم کردہ فہرست کی درستگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس میں امریکی شہریوں کے نام بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایک اور وفاقی عدالت بھی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر چکی ہے جبکہ اپیل کورٹ نے بھی متنازع بیلٹ پیپرز الگ رکھنے کی درخواست منظور نہیں کی۔

