کراچی کی معروف سندھی مسلم سوسائٹی میں کھانے پینے کے مراکز پر مشتمل فوڈ سٹریٹ کو نئے انداز میں فوڈ واک کی شکل دے دی گئی ہے، جہاں شہری اب کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ خاندان اور دوستوں کے ہمراہ چہل قدمی بھی کرسکتے ہیں۔
چنیسر ٹاؤن کی جانب سے قائم کی جانے والی اس فوڈ واک کا افتتاح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یکم نومبر 2026 کو کیا۔
تقریباً ایک کلومیٹر طویل اس فوڈ واک میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی تزئین و آرائش، جدید سٹریٹ لائٹس، آرائشی روشنیاں اور شجرکاری سمیت دیگر انتظامات کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق شام چھ بجے سے رات دو بجے تک اس علاقے میں عام گاڑیوں کا داخلہ بند رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ پیدل آنے والے شہری نسبتاً پرسکون ماحول میں وقت گزار سکیں۔
یہاں باربی کیو، روایتی پاکستانی کھانوں، فاسٹ فوڈ اور مشروبات سمیت کھانے پینے کے مختلف مراکز موجود ہیں۔
’پہلی مرتبہ کراچی میں ایسا ماحول دیکھا‘
فوڈ واک کی سیر کے لیے آنے والے شہریوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے اس نئے تفریحی مقام کو سراہا۔
اسلام آباد سے پہلی مرتبہ کراچی آنے والی مناہل کا کہنا تھا کہ کراچی کی فوڈ سٹریٹ انہیں کافی ترقی یافتہ اور متنوع محسوس ہوئی، جہاں کھانے پینے کے مختلف برانڈز اور انتخاب موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کے چنے، نہاری اور بریانی انہیں خاص طور پر پسند آئے۔
مناہل کے بقول اسلام آباد کی صفائی اور خوب صورتی اپنی جگہ تاہم کراچی کی اس فوڈ واک کا ماحول بھی انہیں اچھا لگا اور کراچی آنے کے بعد انہیں اب تک ہراسانی کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔
’51 سال میں ایسا فیسٹیول نہیں دیکھا‘
سکھر سے خصوصی طور پر کراچی آنے والے ایک شہری نسیم ملک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خاص طور پر اس فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے کراچی آئے ہیں۔
ان کے مطابق اپنی 51 سالہ زندگی میں انہوں نے کراچی میں اس نوعیت کا فیسٹیول پہلے نہیں دیکھا۔
انہوں نے اس منصوبے کے انتظامات کو سراہتے ہوئے فرحان غنی اور متعلقہ بلدیاتی قیادت کی کوششوں کو اس کا کریڈٹ دیا۔
نسیم ملک کا کہنا تھا کہ ایسے فیسٹیول پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں منعقد ہونے چاہییں تاکہ لوگ گھروں سے باہر نکلیں، خاندانوں کے ساتھ وقت گزاریں اور اپنی ثقافت کو فروغ دیں۔
’اب بچوں اور فیملی کے ساتھ بھی آتے ہیں‘
کراچی کے رہائشی ندیم خاصخیلی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے بھی اس علاقے میں آتے رہے ہیں، لیکن حالیہ تزئین و آرائش کے بعد یہاں کا ماحول پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگیا ہے۔
ان کے مطابق اب وہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں اور پورا خاندان اس جگہ سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی اب ایسا مقام بن گیا ہے جو انہیں یورپ، بینکاک اور سنگاپور کے مخصوص تفریحی مقامات کی یاد دلاتا ہے۔
’لڑکیاں بھی دوستوں کے ساتھ آسکتی ہیں‘
کراچی سے تعلق رکھنے والی زویا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ واک کا ماحول انہیں کورین طرز کے خوب صورت تفریحی مقامات جیسا محسوس ہوتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں لڑکیاں بھی اپنی دوستوں کے ہمراہ وقت گزار سکتی ہیں۔
زویا نے بتایا کہ انہوں نے اس جگہ کے بارے میں پہلے ٹک ٹاک پر دیکھا تھا، جس کے بعد خود یہاں آکر دیکھنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے بقول، یہاں کا ماحول انہیں بہت پسند آیا اور یہ کراچی میں ایک خوب صورت تفریحی مقام کا اضافہ ہے۔
کراچی میں تفریحی مقامات کی کمی کے تناظر میں فوڈ واک جیسے منصوبے شہریوں کو ایک جگہ کھانے پینے اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع فراہم کرسکتے ہیں۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ انتظامیہ صفائی، پارکنگ، ٹریفک کی روانی اور دیگر بنیادی سہولیات کو کس حد تک برقرار رکھتی ہے۔

